Monday, 16 November 2015

Reham khan talaq ke Real news

ریحام خان کا طلاق کے بعد پہلے انٹرویو میں تہلکہ خیز انکشافات



ندن: تحریک انصاف کے چیرمین عمران کی سابق اہلیہ ریحام خان نے طلاق کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خلاف سازش کی گئی اور پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے تو یہاں تک کہا کہ ہم تمھیں روٹیاں بنانے کے لئے یہاں لائے ہیں۔
برطانوی جریدے دی سنڈے ٹائمز کو اپنے انٹرویو میں ریحام خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے شادی سے قبل مجھ سے میرے والدین کے نام پوچھے، وہ شاید اپنے روحانی بابا سے ہماری شادی سے متعلق پوچھنا چاہتے تھے، عمران سے جب دوسری ملاقات ہوئی تو انھوں نے شادی کی پیشکش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی سے قبل تحریک انصاف کا ایک ورکر مجھے ٹیکسٹ کرتا تھا جس کی شکایت بھی کی، اس کے علاوہ ہماری شادی پر عمران خان کی بہنیں بالکل بھی خوش نھیں تھیں لیکن عمران کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
ریحام خان نے کہا کہ عمران خان اور میں بالکل مختلف شخصیت کے مالک نکلے، عمران خان بالکل بھی رومانٹک نہیں ہیں انھوں نے تو مجھے شادی کی چوڑیاں تک نھیں دیں، میں ان  سے ڈرائنگ روم میں انڈین فلموں اور پردوں کی باتیں کرتی لیکن وہ بالکل بھی دلچسپی نھیں لیتے اور ہر وقت سیاست پر بات کرنا پسند کرتے تھے۔ عمران خان کو گھر سے بھی بالکل دلچسپی نھیں تھی، ان کی الماری کھولی تو کپٹرے اس طرح ٹھونسے ہوئے تھے کہ جیسے باہر لٹک رہے ہوں، گھر میں دوسری الماری منگوائی جس پر عمران خان بہت خوش ہوئے، عمران خان کو نئے کپڑے لا کر دیئے اور ان کے گھر میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کی۔ عمران خان کو یہ پرواہ بھی نھیں ہوتی تھی کہ وہ باہر جاتے ہوئے کیسے لگ رہے ہیں جب میرے گھر والے باہر جاتے ہیں تو مجھے ہر وقت ان کی فکر لگی رہتی ہے۔ عمران خان کا فرج کھولا تو وہ بھی خالی تھی، ان کا زیادہ گزارہ دال دلیا پر تھا، ایک لڑکا کچن میں کام کرتا تھا اور وہ بھی ذیادہ وقت ٹی وی ہی دیکھتا رہتا تھا۔
بی بی سی ویدر گرل نے کہا کہ عمران بچوں کو اپنے پاس زیادہ پسند نھیں کرتے تھے اس لئے میں نے اپنے بچوں کو ایک کمرے تک محصور کر لیا تھا، وہ کچن تک بھی نھیں جاتے تھے۔ ہمارے بیڈ روم میں تو ہر وقت کتے گھسے رہتے تھے بلکہ ایک کتے کو تو مجھ سے پیار بھی ہو گیا تھا۔
ریحام خان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف سازش کی گئی، تحریک انصاف کے لوگ میرے ساتھ کام نھیں کرنا چاہتے تھے، ایک سینئر لیڈر نے تو یہاں تک کہا کہ تم کچن میں ہی اچھی لگتی ہو، ہم تمھیں روٹیاں بنانے کے لئے لائے ہیں۔ پشاور میں جب اسٹریٹ چلڈرن کا چیرمین بنایا گیا تو پارٹی لوگوں کو لگا کہ میں پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتی ہوں۔ عمران خان کا کوئی بھی قریبی دوست نھیں ہے اور وہ اکیلے ہی زندگی گزار رہے ہیں، انھوں نے زندگی کے 54 سال اکیلے گزارے ہیں اس لئے کسی کا ان کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے۔
عمران خان کی سابق اہلیہ کا کہنا تھا کہ مجھے غلط طریقے سے طلاق دی گئی، عمران خان نے صرف میسج کے ذریعے کہا ’طلاق، طلاق، طلاق‘ جس پر بہت افسوس ہوا اور پھر عمران نے اپنے ایک دوست کے ذریعے مجھے طلاق کے کاغذات بھیجے جس پر اور بھی زیادہ رنج ہوا۔ ہماری شادی پاکستان یا برطانیہ کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہوئی۔ 10 ماہ تک شادی رہی لیکن مجھے کسی بھی چیز کا حق حاصل نہیں تھا، عمران خان کو پیٹنے، چوہوں کو مارنے والی دوائی پلانے کی کوشش کا الزام لگا۔ اس کے علاوہ پارٹی رہنماؤں سے پیسے لینے کا الزام بھی لگا لیکن کسی نے میرا دفاع نھیں کیا۔

Man real Power

اندر سے کچھ، باہر سے کچھ


    پاکستان میں جہاں مختلف نوعیت کے سنگین جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں رشوت، کمیشن مافیا اور سرکاری محکموں میں فراڈ اور جعلسازی کے عنصر میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رشوت اور کمیشن کی روش نے اب سرکاری محکموں کے سربراہوں، حتیٰ کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھی،اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آئے روز ایسی خبریں منظر عام پر آتی ہیں اور میڈیا کی زینت بنتی ہیں، جنہیں سن کر ہی سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ شرم نہیں آتی تو اُن کو جو سیاست میں ہیں، سیاست بھی کرتے ہیں اور سیاست کے طفیل اعلیٰ حکومتی عہدے حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ قومی خزانے پر اپنا ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے افراد کو ’’قابو‘‘ کرنے کے لیے سخت قوانین تو ضرور موجود ہیں۔ ہتھکڑیوں کا زیور بھی پہنایا جاتا ہے۔ جیل بھی ایسے لوگوں کو جانا پڑتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اُس وقت فضول سا ہو جاتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی صفائی کے ساتھ اپنے آپ کو اِن تمام ’’معاملات‘‘ سے بچا لیتے ہیں۔ سزا تو دُور کی بات، اُن کا بال تک بیکا نہیں ہوتا۔کسی پر بھی انگلی اُٹھا لیں، کچھ بھی کہہ لیں، سوال پھر وہی ہے کہ رشوت، کمیشن اور جعلسازی کے نتیجے میں ناانصافی کا جو نظام قائم و دائم ہے، وہ کب ختم ہو گا؟
    رشوت اور کمیشن سے نا انصافی جنم لیتی ہے اور معاشرے کبھی ناانصافی پر مبنی نظام سے قائم نہیں رہتے۔ ہم گزشتہ 60سال سے اسی ناانصافی پر مبنی نظام کے تابع ہیں۔ امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر، ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے پورے نظام اور معاشرے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ جو اب اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے کب ایسا نظامِ حکومت یا نظامِ جمہوریت لائیں گے جس میں وہ کچھ نہ ہو گا، جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور جو ہمارے مقدر کا لازمی جزو بن گیا ہے۔ اس سے مایوسی پھیل نہیں رہی، پھیل چکی ہے۔ نیب، احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے ملک بھر میں موجود ہیں اور اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اپنے فرائض اور اختیارات میں اُن کا کوئی فعال کردار بھی ہے تو اس کا جواب ہمیشہ نفی میں ہی ہو گا۔ اُن کے نیگیٹو یا غیر فعال کردار کا ہی نتیجہ ہے کہ رشوت اور کمیشن ہمارے تمام سرکاری محکموں اور وزارتوں میں اس قدر عام ہے کہ رشوت یا کمیشن دئیے بغیر کوئی جائز کام بھی نہیں ہو سکتا۔

    سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ہوں یا راجہ پرویز اشرف، ہر ایک پر سنگین الزام لگے ہیں۔ کئی وزیر بھی نہیں بچ سکے۔ یعنی سب کمیشن اور مالی اسکینڈل کے حمام میں ننگے نظر آتے ہیں۔ اُن کے خلاف ایک نہیں کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کے کئی مقدمات ہیں جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، کئی کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں۔
    جب بھی بات ہوتی ہے گیلانی صاحب اور راجہ پرویز اشرف کی، وہ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ اُن کے خلاف تمام کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔ یعنی سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں۔ تمام معاملات اب چونکہ عدالتوں میں ہیں، اس لیے اب عدالتیں ہی خود دیکھ لیں گی کہ ان دونوں صاحبان کے اس الزام یا مؤقف میں کس حد تک صداقت ہے کہ کیا وہ واقعی سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ انہیں کیوں کوئی سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گا۔ وہ موجودہ حکومت کا کیا بگاڑ رہے ہیں، یا بگاڑ سکتے ہیں۔ پھر یہ انتقام کیسا؟

    احتساب عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور وہ ادارے بھی جو اس قسم کے کیسز کی تحقیقات کے لیے مامور ہیں۔ تاہم کسی بھی انویسٹی گیشن کو اُس کے انجام تک پہنچانے کے لیے شہرت یا شواہد کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم ہمارے نزدیک کسی بھی کرپٹ شخص کی کرپشن یا ناجائز ذرائع سے حاصل کی جانے والی دولت کو جانچنے کا ایک مسلّمہ راستہ، اصول یا طریقہ یہی ہے کہ جان لیا جائے اگر وہ شخص واقعی کرپٹ ہے، اُس کی ملکیتی پراپرٹی، طرزِ زندگی اور بینک اکاؤنٹس اس کی آمدن سے زیادہ ہوں گے، اگر اس کے 10یا 20سال پہلے کے ذریعۂ معاش، طرزِ زندگی اور رہن سہن کا جائزہ لے لیا جائے اور اس کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی جائیں تو چنداں مشکل نہیں، تو ہر چیز، کرپشن، مالی بدعنوانی با آسانی سامنے آ سکتی ہے۔ میں ایک اہم شخصیت کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جس کا رہن سہن چند سال پہلے انتہائی عام لوگوں جیسا تھا لیکن جیسے ہی وہ اقتدار میں آئے اور ایک بڑے عہدے پر براجمان ہوئے تو اُن سمیت اُن کے بچوں کا طرزِ زندگی ہی بدل گیا۔ وہ رکشوں سے بڑی گاڑیوں میں آگئے، او ر محلوں جیسا گھر اُن کی اقامت گاہ بنا۔ اثاثے بھی بڑھ گئے اور بینک اکاؤنٹس بھی۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

    پاکستان سے رشوت، کرپشن اور سرکاری محکموں میں سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی رشوت ستانی کے واقعات جب تک ختم نہیں ہو جاتے، ہم تصور ہی نہیں کر سکتے کہ نئے پاکستان کا تصور شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا، معاشرے میں وہ امن و سکون آ سکے گا جس کی خواہش ہم سب رکھتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ دورِ حکومت میں احتساب کے عمل سے نظر آتا ہے کہ شاید حکومت اور احتساب پر مامور ادارے اسے ختم کرنے کی خواہش اور ضرورت محسوس کرتے ہیں لیکن یہ اُس وقت ممکن ہو گا، جب احتساب، بے حساب اور بے دریغ کیا جائے۔ چاہے احتساب کی زد میں کوئی بھی آ جائے۔ احتساب کو ہر لحاظ سے بے رحم ہونا چاہیے۔

    Positive Thinks

    مثبت تحریکیں ضرور ہونی چاہئیں






      ہر ذی شعور کم از کم اتنا تو جانتا ہے فلاحی حکومتیں بھولے سے بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاتیں کہ جن سے قوم کے مفادات کو کسی قسم کا نقصان پہنچے ،لیکن اس کے برعکس اگر حکومت کے اختیارات کبھی مقصود بالذات ہو جائیں تو ایسے حالات میں ظالم سے ظالم حکومت کے خلاف بھی آواز اٹھائی جا سکتی ہے،جبکہ مجبوراً ایسے حالات کو قبول کر لینا قوموں کو تباہ کر دیتا ہے،جن کو دیکھتے ہوئے قوم پرست اور محب وطن کابھی حکومت کے خلاف ہوجانا فطری عمل ہے۔اگر کوئی حکومت اپنی طاقت کے زور پراپنی ہی قوم کو تباہ کرنے کے لئے استعمال شروع کر دے تو اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہر محب وطن شہری کا اولین فرض ہے۔کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے کامیاب تحریک کا ہونا ضروری ہے۔اور عمومی طور پر کامیاب اور حقیقی تحریک کی وجہ حکمران طبقہ کا عوام کے مسائل سے دروغ گوئی بنتا ہے۔ 
      رہا یہ سوال کہ آیا ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ ہماری قوم آواز حق بلند کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہو ؟ تو معاف کیجئے اس کا جواب اصولی نکتہ نوازیوں سے نہیں دیا جا سکتا،اس کا جواب صرف عوامی مشترکہ طاقت میں مضمر ہے اور ایسے مسائل کی آخری کسوٹی کامیابی ہے۔دنیا کی ہر حکومت چاہے وہ کتنی ہی بد ترین ہی کیوں نہ ہو اور اس نے قوم کے اعتماد سے ہزار طرح غداری کیوں نہ کی ہو۔وہ اور اس کے حواری استحصالی قوتیں تو یہی دعویٰ کریں گے کہ حکومت کا اقتدار قائم رکھنا ملک و قوم کے حق میں بہتر ہے۔وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاکھوں ایسے دلائل لے آتے ہیں جوان کے اقدامات کو جائز قرار دینے کے لئے بظاہر کافی نظر آتے ہیں،لیکن یہ سب اقدامات بھی حکومت کی گرتی ساکھ کو نہیں بچا سکتے،بلکہ قوم سے محبت کرنے وا لے جو کسی مصلحت کے تحت خاموش بیٹھے ہوتے ہیں وہ بھی میدان عمل میں کود کر دوسروں کو محو حرکت کر دیتے ہیں۔یوں سب جان جاتے ہیں کہ ایک خاص تحریک کے ذریعہ ہی ہم ایسے راج کے خلاف کامیاب ہو سکتے ہیں اور اپنے لئے آزادی و خود مختاری حاصل کر کے نہصرف مشترکہ دشمن کو شکست دے سکتے ہیں، بلکہ وطن عزیز کو کمال درجہ تک پہنچا سکتے ہیں۔ 

      یہاں خدشہ صرف یہ ہے کہ ان کے مخالف، بلکہ ستم گر اپنی طاقت کو غیر قانونی ذرائع سے استعمال کر سکتے ہیں، لیکن حق پر ڈٹے رہنے والوں جنہیں عموماً باغی کہا جاتا ہے کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حق حاصل ہے۔ (یہاں باغی کا مطلب محترم جاوید ہاشمی نہیں)کیونکہ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ انسان کی زندگی کا اولین مقصد حکومت کا حصول نہیں،بلکہ اپنی قومیت کو قائم رکھنا ہے۔اگر قومیت کو مٹانے کی کوشش کی جائے یا اس پر ظلم ڈھائے جائیں تو ایسے حالات میں قانون کی پابندی محض ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ذرا تصور کریں کہ جو طاقت برسراقتدار ہے وہ تو ممکن ہے کہ محض مزعومہ قانونی وسائل پر اکتفا کر لے ، لیکن جن پر ستم ٹوٹ رہے ہیں وہ ہر ممکن وسیلہ سے کام لیں گے۔ان کا خود حفاظتی کا طبعی احساس انہیں یقین دلا دے گا کہ ان کا طرز عمل بدرجہ اتم جائز ہے۔
      مت بھولیں کہ تاریخ میں غیر ملکی غلامی کا طوق اتارنے یا ملکی ظلم و ستم کے خاتمہ کرنے کے لئے شاندار تحاریک کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ملکی تحریک شروع کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ انسانی حقوق حکومتی حقوق سے بالا تر ہیں۔وہ یہ بھی نہیں بھولتے کہ اگر کوئی قوم اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کرتی ہے اور ناکام رہتی ہے تواس کے معنی یہ ہیں کہ وہ وقسمت کے ترازو میں پورا نہیں اتری،وہ اس عالم خاکی میں زندہ رہنے کے قابل نہیں۔یہ بنیادی فلسفہ کے ساتھ چلنے والی تحریکیں اکثر اوقات کامیاب رہتی ہیں۔

      تحریک کے کرتا دھرتا کی پہلی کامیابی اس وقت شروع ہو جاتی ہے ،جب کمزور دل والے بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں، مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ظلم و ستم ڈھانے والے بھی کمزور دل ہوتے ہیں،فرق صرف اتنا ہے کہ وہ طاقت اور نام نہاد قانون کی آڑ لے کر عارضی تحفظ توحاصل کر لیتے ہیں، لیکن تاریخ میں ان کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔آنکھوں پر عینکیں سجائے گلہ پھاڑ پھاڑ کر اصولی بحثیں کرنے والے قوم کے لئے کبھی جان قربان نہیں کرتے، اور عمل بھی ندارد۔
      تحریکوں کی اصل طاقت غریب ہوتے ہیں۔کھاتے پیتے لوگوں میں جدوجہد کا جذبہ نہایت کمزور ہوتا ہے۔کمزوری کی وجہ ان کے کاروباری مفاد ہوتے ہیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے اپنے ذاتی مفادات سے بڑھ کر سوچنا ہوتا ہے۔موجودہ حالات نے ہمارے ہاں امیر اور غریب کے فرق کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ امراء سمٹ رہے ہیں اور غرباء کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔جو متوقع تحریک کی اصل روح ثابت ہوں گے۔بہرحال بحیثیت مجموعی کہا جا سکتا ہے کہ جب تک کسی ضابطہ حیات کے لئے عوام الناس یہ اعلان نہیں کر دیتے،کہ ہم اس کے علمبردار بنیں گے اور جہاں کہیں اور جس حد تک ضرورت ہو ہم اس کی خاطر مرنے مارنے کو تیار رہیں گے۔تب تک اس ضابطۂ حیات کی کامیابی کی کوئی امید نہیں۔
      تحریک کی کامیابی کے لئے ایک شرط لازمی ہے کہ سپوتوں کی شرکت لازمی ہے ۔کسی نیک مقصد کے لئے دنیاوی پل صراط کو عبور کرنا عام لوگوں کا ہی کام ہے،لیکن ہمارے ہاں کی اکثریت ذہنی طور پر اس مقدس کام کے لئے تیار ہو چکی ہے۔جس کی بڑی وجہ عوام کا پارلیمینٹ سے مایوس ہونا ہے۔عوام کا یہ مغالطہ دور ہو چکا ہے کہ پارلیمینٹ ان کی خاطر کوئی اچھا کام کرے گی۔اب عوام اپنے ان مطلب پرست لیڈروں سے مایوس ہوچکے ہیں جو قومی منبر پر کھڑے دھواں دار تقریریں کر کے ورغلاتے رہے ہیں۔وقت تیزی سے بدل گیا ہے اور بکھری ہوئی قوم متحد بھی ہو رہی ہے اور باشعور بھی۔

      پارلیمینٹ سے باہر عوام کے درمیان کی گئی تقریر زیادہ اثر رکھتی ہے۔خوش کن بات یہ ہے کہ عوامی رابطہ اور تقاریر شروع ہو چکی ہیں۔جن کو عوام کی پذیرائی بھی حاصل ہو رہی ہے۔مزید تسکین کی بات یہ ہے کہ لوگ قائل، بلکہ مائل ہو رہے ہیں۔دنیا بھر میں یہی ہوا ہے کہ ہر تحریک نے ایک نیا ضابطہ حیات دیا ہے۔ہمارے ہاں احتساب کا نعرہ لگ رہا ہے۔اس مرتبہ تحریک کے قائدین لالچ کی بجائے قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں۔صرف تین چیزوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔(1) عام جلسوں میں سنجیدہ افراد کی تعداد ابھی ضرورت سے کم ہے۔(2) مضبوط دلائل کے ساتھ تقاریر کرنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ (3) موجودہ تحاریک کا عوام سے رابطہ ابھی مضبوط نہیں ہوا۔اگر یہ خامیاں بھی دور ہو گئیں تو تحریک طاقت حاصل کر کے اس کو انقلاب میں بدلتے دیر نہیں لگے گی۔اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔آمین۔

      Five risks man trying in life Every time

      وہ 5 خطرات جو ہر کسی کو زندگی میں کم از کم ایک دفعہ ضرور مول لینے چاہئیں



        نیویارک(نیوزڈیسک)انسان خطروں سے دور بھاگتا ہے لیکن کچھ خطرات ایسے بھی ہیں جنہیں زندگی میں ضرور ایک بار مول لینا چاہیے،آئیے آپ کو ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔
        1۔آپ کو چاہیے کہ کسی ایسے انسان کوکم از کم ایک بار ضرورملازم رکھیں جسے عام حالات میں چانس دینا ناممکن ہو۔کیونکہ اگر آپ معیارپر اترنے والے انسان کو نوکری دیں گے تو وہ صرف وہی کام کرے گا جو اس کے ذمہ ہوگا لیکن اگر آپ ایسے انسان کو موقع دیں گے جس کی قابلیت پر وہ پورا نہیں اترتا تو وہ ضرور کچھ ایسا غیر معمولی کرنے کی کوشش کرے گا جس سے آپ یا آپ کی کمپنی کو فائدہ ہوگا۔
        2۔ہر انسان زندگی میں غلطیاں کرتا ہے لیکن بہت ہی کم لوگ ان غلطیوں کو تسلیم کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔لوگوں کی اکثریت حقائق سے نظریں چراتی ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جو غلطیاں انہوں نے کی ہیں ان پر پردہ ہی پڑا رہے۔اگر آپ سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو ہمت پیدا کریں اور اسے مانیں کیونکہ اس سے نہ صرف آپ کے بڑے پن کا مظاہرہ ہوگا بلکہ لوگوں کی نظر میں آپ کا اچھا امیج بنے گا۔
        3۔اگر آپ کو کسی چیز سے خوف ہے تو اس سے نظریں چرانے کی بجائے مردانہ وار اس کامقابلہ کریں۔اگر آپ اپنے خوف پر قابو نہیں پائیں گے تو ساری زندگی اس سے بھاگتے رہیں گے۔بڑے بڑے افراد نے اپنے خوف پر قابو پایا اور ناممکن کو ممکن کردکھایا۔
        4۔آپ کو چاہیے کہ کسی بھی ایک ایسی چیز کا انتخاب کریں جسے کرنے کے لئے دوسرے کتراتے ہوں یا وہ اس سے خوفزدہ ہوں اور اسے کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہوں۔کبھی بھی دوسروں کی باتوں کی وجہ سے اپنی خواہشات کا گلا مت گھوٹیں کیونکہ دنیا کسی کو جینے نہیں دیتی ارو نہ ہی آپ دنیا کو خوش کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔
        5۔آپ کوچاہیے کہ کسی ایک ایسے انسان کی ضرور مدد کریں جسے آپ نہیں جانتے۔دنیا اور آپکے اردگرد لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنہیں مدد کی ضرورت ہے لیکن لوگ انہیں نظر انداز کررہے ہیں یا ان سے خوفزدہ ہیں لیکن کیا آپ میں اس بات کی ہمت موجود ہے کہ اس شخص کی مدد کی جائے؟اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ رسک ضرور لے کر دیکھیں کیونکہ آپ کی یہ ہمت کسی کی زندگی بھی بدل سکتی ہے۔

        Saturday, 5 September 2015

        how can help me in new software and websites making

        every engineers warning

        every engineers Juniors engineers specially contact me software  , websites developer, Game makers ,cartoon maker ,Php,and Html jo janty hoon contact me only juniors engineers contact me 

        asadalishahpail@gmail.com
        asadalishahpail/facebook
        asadalishahpail.blogspot.com
        asadpail/twitter
        asadalishahpail@yahoo.com
        asad-ali-shah.blogspot.com
        923144911480
        923145271946      

        Friday, 4 September 2015

        جاپان سے سبق سیکھنے کی ضرورت

         0
        یوم دفاع کی گولڈن جوبلی نہایت جوش و خروش منانے کی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں۔ پاک فوج نے یوم دفاع جوش وخروش سے منانے کی بھر پور تیاریاں کی ہیں۔ حکومت نے بھی اس حوالے سے خصوصی تیاریاں کی ہیں۔ دوسری طرف بھارت میں بھی یہ دن منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت پاک بھارت تعلقات نہایت نچلی سطح پر ہیں۔ سرحدوں پر تناؤ ہے۔ محدود اور کھلی جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر بھی فائرنگ معمول ہی بن گیا ہے۔ نہتے پاکستانیوں کا خون بہہ رہا ہے۔ یوم دفاع کے موقع پر ایک منٹ کی خاموشی بھی کی جا رہی ہے تا کہ پوری دنیا کو یہ بتا یا جا سکے ہم ایک ہیں۔ ہم متحد ہیں۔

        بات کو آگے بڑھانے سے قبل میں جا پان کی ایک روائت لکھنا چاہتا ہوں۔ پاکستان اور جا پان کے درمیان سفارتی تعلقات کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان صحافیوں کے ایک گروپ کا تبادلہ ہوا تھا۔ جس کا مقصد دونوں ممالک کے صحافیوں کو ایک دوسرے ملک کی ثقافت اور سیاست سے آگاہ کرنا تھا۔ مجھے اس گروپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حا صل ہوا۔ ہم سات صحافی تھے۔اس دورہ جا پان کے دوران ہمیں ہیروشیما بھی لے جایا یا گیا۔ ہیرو شیما وہ شہر ہے جہاں امریکہ نے جنگ عظیم دوئم میں ایٹم بم کا استعمال کیاتھا۔ وہاں کے لوگوں میں اب بھی ایٹم بم کی تابکاری کے اثرات موجود ہیں۔ہیرو شیماء میں مجھے ایٹم بم کی تباہ کاری کو سمجھنے کا موقع ملاء۔ لیکن ایک بات جس نے مجھے ہیرو شیما جا کر حیران کیا۔ کہ جا پان میں کوئی بھی طالبعلم سیکینڈری امتحان میں بیٹھ نہیں سکتا جب تک وہ ہیروشیماء میں ایک ہفتہ کا تعلیمی دورہ مکمل نہ کر لے۔

        اسی لئے جب میں ہیرو شیماء کے اس تاریخی میوزیم پہنچا تو میں نے وہاں سینکڑوں طالبعلموں کو دیکھا۔ ہر طرف طلباء کے گروپ تھے۔ مجھے بتا یا گیاکہ ہر سکول اپنے بچوں کو یہاں بھیجنے کے لئے سپیشل بکنگ حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر اس کے بچے امتحان میں نہیں بیٹھ سکتے۔ میں حیران تھا کہ ہیرو شیما پر ایٹم بم مار کر امریکہ نے جاپان کو شکست دے دی تھی۔ اور جا پانی اپنی عبرت ناک شکست کی داستان اپنے بچوں کو کیوں بتاتے ہیں ۔ میں نے یہ سوال ہیرو شیما کے میئر سے اپنی ملاقات میں بھی کیا کہ آپ اپنے بچوں کو اپنی شکست کا یہ پہلو کیوں بتاتے ہیں۔ کیونکہ ہم پاکستان میں تو اپنے بچوں کو اپنی نا کامیاں اور شکست نہیں بتاتے بلکہ ان سے چھپاتے ہیں۔ تو اس نے مسکرا کر جواب دیا کہ آپ دیکھیں کہ دو ایٹم بم کھانے کے بعد بھی نصف صدی میں جا پان نے کس قدر ترقی کی ہے۔ ہم دنیاکی ایک بڑی معیشت اور قوم بن گئے ہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل اور قوم کے ساتھ سچ بو لا ہے۔

        ہیرو شیما کے اس میوزیم میں ایٹم بم کی تباہی کے ایسے مناظر ہیں ۔ کہ ہر آنکھ نم ہو جائے۔ اندر داخل ہونے کے بعد ہر کوئی روتا ہے۔ اس میوزیم میں ایٹم بم سے پہلے کا ہیرو شیما اور ایٹم بم کے بعد کا ہیر و شیما دکھا یا گیا ہے۔ کیسے زندگی ختم ہو گئی۔ لوگ مر گئے شہر ختم ہو گیا۔ لیکن آج ہیرو شیما پھر ایک بڑا ترقی یافتہ شہر ہے۔ سکول کے بچے جب اس میوزیم کے دورہ پر آتے ہیں تو بزرگ انہیں ایٹم بم کی تباہی اور اپنی شکست کی داستان سناتے ہیں۔ بچے بھی روتے ہیں۔ لیکن اس دورہ سے ان کے دل میں اپنے ملک جا پان کے لئے ایسا جذبہ پیدا ہو تا ہے کہ وہ ساری عمر جا پان کے لئے کام کرتے ہیں۔

        پاکستان کو جا پان سے سبق سیکھنا چاہئے۔ یوم دفاع منانا ایک خوش آئند اقدام ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نئی نسل کے ساتھ سچ بھی بولنا ہو گا۔ انہیں بتا نا ہو گا کہ ہم نے کہاں فتح حا صل کی۔ کہاں شکست کھائی۔ کیا ہماری کامیابی ہے۔ اور کیا ہماری نا کامی ہے۔ تب ہی اپنی نئی نسل کو ایک روشن پاکستان کے لئے تیار کر سکیں گے۔
        یوم دفاع منانا چاہئے۔ پر صرف سال میں ایک دن منانے سے مقاصد حاصل نہیں ہو نگے۔ ہمیں بھی یہ لازمی کرنا ہو گا کہ ہر بچہ میٹرک کے امتحان سے پہلے ملکی دفاع کی داستانوں سے روشناس ہو نا لازمی ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو بتا نا ہو گا کہ اس ملک کے لئے ہمارے ہیروز نے کیا کیا قربانیاں دی ہیں۔ جرات و بہادری کی داستانین نوجوان نسل تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ لیکن اس کے ساتھ شکست اور نا کامیاں بتانا بھی ضروری ہیں ۔ تب ہی ہم ایک اچھی قوم تیا کر سکیں گے۔ آدھا سچ ۔ ایک اچھی قوم تیار نہیں کر سکے گا۔

        پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اس وقت پاکستان میں مقبولیت کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے تمام سیاسی قیادت اور اپنے پیش رو ء کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عوام کی جنرل راحیل سے محبت ان کی سچائی کی وجہ سے ہے۔ کہ وہ قوم سے سچ بول رہے ہیں۔ اسی لئے عوام ان سے محبت اور ان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر بھی چل رہی ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اپنا وہ پلاٹ جو انہیں بطور جنرل ملا تھا بیچ کر اس کے پیسے شہدا فنڈ میں جمع کروا دئے ہیں۔ جبکہ ان سے پہلے تمام جنرل ان پلاٹس پر گھر بنا چکے ہیں۔ ایسی خبریں ہی ان کی عوام کے دل میں محبت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یوم دفاع کو اس قدر جوش و خروش سے منانا بھی ان کا فیصلہ تھا۔ تا ہم انہیں چاہئے اس حوالے سے ایک مربوط حکمت عملی بنائیں۔ جیسے جا پان نے اپنی نوجوان نسل کے لئے بنائی۔

        1965 کی جنگ ایک سڑک کی وجہ سے شروع ہوئی‘

        ’1965 کی جنگ ایک سڑک کی وجہ سے شروع ہوئی‘

        • 4 ستمبر 2015
        Image copyrightPublication Division
        Image captionحکمت عملی کے اعتبار سے یہاں پاکستان بہت فائدے میں تھا کیونکہ اس علاقے سے محض 26 میل کے فاصلے پر ہی ان کا ریلوے سٹیشن بدين تھا
        بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سنہ 1965 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کی بنیاد رن آف کچھ کے ویران علاقے میں ہونے والی ایک چھوٹی سی جھڑپ سے رکھی گئی تھی۔
        یہ پورا علاقہ ایک طرح کا صحرا تھا جہاں کچھ چرواہے کبھی کبھار اپنی بھیڑ بکریاں چرانے جایا کرتے تھے یا بھولے بھٹکے کبھی پولیس والوں کا دستہ گشت کر لیا کرتا تھا۔
        حکمت عملی کے اعتبار سے یہاں پاکستان بہت فائدے میں تھا کیونکہ اس علاقے سے محض 26 میل کے فاصلے ہی پر ان کا ریلوے سٹیشن بدين تھا جہاں سے بذریعہ ریل کراچی کا فاصلہ صرف ایک 113 میل تھا۔ پاکستان کی آٹھویں ڈویژن کا یہیں پر ہیڈ کوارٹر تھا۔
        دوسری طرف بھارت کی جانب سے کچھ کے میدان میں پہنچنے کے تمام راستے تقریباً ناقابلِ رسائی تھے۔ سب سے نزدیک 31ویں بریگیڈ احمد آباد میں تھی جہاں سے نزدیکی ریلوے سٹیشن بھوج سے 180 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ بھوج یوں تو اس علاقے کا ایک چھوٹا شہر تھا لیکن متنازع پاکستانی سرحد سے 110 میل کے فاصلے پر تھا۔
        جھگڑے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب بھارتی سکیورٹی فورسز کو پتہ چلا کہ پاکستان نے ڈینگ اور سرائي کو ملانے کے لیے 18 میل طویل ایک کچی سڑک بنا لی ہے۔ یہ سڑک کئی مقامات پر بھارتی سرحد کے ڈیڑھ میل اندر تک جاتی تھی۔ بھارت نے اس مسئلے پر مقامی اور سفارتی سطح پر احتجاج کیا تھا۔
        پاکستان نے اس کے جواب میں 51 ویں بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر اظہر کو اس علاقے میں مزید جارحانہ گشت کرنے کا حکم دے دیا۔ ادھر مارچ کے آتے آتے بھارت نے بھی كجركوٹ کے قریب نصف کلومیٹر جنوب میں سردار چوکی بنالی۔
        Image copyrightUSI
        Image captionبھارت کو اس وقت اور شرمسار ہونا پڑا جب پاکستان نے ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کو بلا کر بھارتی فوجیوں کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں اور گولہ بارود دکھائے
        پاکستان کے کمانڈر میجر جنرل ٹکّا خان نے بریگیڈیئر اظہر کو حکم دیا کہ حملہ کر کے بھارت کی نئی بنی سردار چوکی کو تباہ کر دیا جائے۔
        نو اپریل کی صبح دو بجے پاکستانی حملہ شروع ہوا۔ انھیں سردار چوکی، جنگل اور شالیمار نام کی دو مزید بھارتی چوکیوں پر قبضہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
        شالیمار چوکی پر تعینات سپیشل ریزرو پولیس کے جوان، مشین گن اور مورٹر فائر کے کور میں آگے بڑھتے ہوئے پاکستانی فوجیوں کا مقابلہ نہیں کر پائے۔ تاہم سردار چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے زبردست مزاحمت کی۔ 14گھنٹوں کے زبردست حملے کے بعد بریگیڈیئر اظہر نے گولہ باری روکنے کا حکم دیا۔
        اس دوران سردار چوکی کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار دو میل واپس وجیو كوٹ چوکی پر چلے آئے۔
        پاکستانیوں کو اس کا پتہ نہیں چلا اور انھوں نے بھی اپنے فوجیوں کو واپس اسی جگہ پر واپس کرنے کا حکم دیا جہاں سے انھوں نے صبح حملہ شروع کیا تھا۔
        شام کو واپس آنے والے جوانوں کو احساس ہوا کہ سردار چوکی پر کوئی بھی پاکستانی فوجی نہیں ہے۔ انھوں نے شام ہوتے ہوتے بغیر لڑے دوبارہ اس چوکی پر قبضہ کر لیا۔
        بی سی چکرورتی نے اپنی کتاب ’ہسٹری آف انڈو پاک وار، 1965‘ میں تبصرہ کیا ہے کہ ’پاکستان کی 51 ویں بریگیڈ کے کمانڈر نے اتنے ہی اناڑی پن سے آپریشن کو ہینڈل کیا جتنا ہندوستان کی 31 ویں انفینٹري بریگیڈ کے بریگیڈیئر پہلجاني نے۔‘
        Image copyrightISPR
        Image caption24 اپریل کو بریگیڈیئر افتخار جنجوعہ کی قیادت میں پاکستانی فوجیوں نے سیرا بیت پر قبضہ کر لیا
        بھارت نے صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میجر جنرل ڈن کو ممبئی سے کچھ بھیجا۔
        پاکستان نے بھی اس دوران مکمل آٹھویں انفینٹری ڈویژن کو کراچی سے پاکستانی شہر حیدرآباد بلا لیا۔
        اس وقت علاقے میں بریگیڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل سندرجي نے پولیس کی وردی پہن کر علاقے کا معائنہ کیا اور مشورہ دیا کہ بھارت کو كجركوٹ پر حملہ کر دینا چاہیے، لیکن حکومت نے ان کے مشورے کو تسلیم نہیں کیا۔
        بعد میں یہی سندرجي بھارت کے آرمی چیف بنے اور اسی علاقے میں انھوں نے سنہ 1987 میں مشہور براس ٹیك فوجی مشق کی جس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کی فوجیں تقریباً جنگ کے دہانے پر پہنچ گئیں۔
        اس درمیان دلچسپ بات یہ ہوئی کہ پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل اصغر خان نے بھارتی فضائی فوج کے سربراہ ایئر مارشل ارجن سنگھ کو فون کر کے پیشکش کی کہ دونوں ممالک کی فضائیہ اس جنگ سے اپنے آپ کو الگ رکھیں۔
        اگرچہ اصغر خان نے اپنی سوانح عمری ’دی فرسٹ راؤنڈ‘ میں اس واقعے کا ذکر نہیں کیا لیکن بعد میں یہ قیاس آرائی کی گئی کہ شاید اسی کی وجہ سے جنگ شروع ہونے سے صرف دس روز قبل ایوب خان نے انھیں ان کے عہدے سے ہٹا کر ایئر مارشل نور خاں کو پاکستانی ایئر فورس کا سربراہ بنا دیا تھا۔
        24 اپریل کو بریگیڈیئر افتخار جنجوعہ کی قیادت میں پاکستانی فوجیوں نے سیرا بیت پر قبضہ کر لیا۔
        انھوں نے اس کے لیے پوری دو ٹینک رجمنٹیں اور توپ خانے کا استعمال کیا اور بھارتی فوجیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
        اگلے دو دنوں میں بھارتی فوجیوں کو بیئر بیت کی چوکی بھی خالی کرنی پڑی۔
        Image copyrightPhoto Division
        Image captionبرطانیہ کی مداخلت سے دونوں فوجیں اپنے پرانے محاذ پر واپس چلی گئیں
        بھارت کو اس وقت اور شرمسار ہونا پڑا جب پاکستان نے ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کو بلا کر بھارتی فوجیوں کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں اور گولہ بارود دکھائے۔
        بعد میں برطانیہ کی مداخلت سے دونوں فوجیں اپنے پرانے محاذ پر واپس چلی گئیں۔
        فرخ باجوہ نے اپنی کتاب ’فرام کچھ ٹو تاشقند‘ میں لکھا کہ اس سے پاکستانی فوج کو کم سے کم محدود سطح پر ہی سہی، بھارتی فوج کی صلاحیت کو آزمانے کا موقع ملا۔
        بھارت کے اس وقت کے ڈپٹی چیف جنرل كمارمگلم نے کہا: ’بھارت کے لیے کچھ کی لڑائی صحیح دشمن کے ساتھ غلط وقت پر غلط جنگ تھی۔‘ اس جنگ میں پاکستان ہندوستان پر بھاری پڑا لیکن اس کی وجہ سے ’پاکستان کو یہ غلط فہمی بھی ہو گئی اور اس کا انھیں بہت نقصان بھی ہوا کہ کشمیر کی جنگ ان کے لیے كیک واک ثابت ہوگی۔‘
        پاکستان میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر شنکر باجپئي کاکہنا ہے کہ یہ تصادم بھارت کے لیے نعمت ثابت ہوا کیونکہ اس سے وہ پاکستان کے عزائم سے باخبر ہو گیا۔
        تین ماہ بعد جب پاکستان نے آپریشن جبرالٹر کا آغاز کیا تو ہندوستانی فوج ان سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیار تھی۔