Monday, 16 November 2015

sulam no wedding real news

شادی کرکے بیوی کومصیبت میں نہیں ڈال سکتا، سلمان


ممبئی: بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خا ن نے کہا ہے کہ وہ 10دن میں اپنی فلم ’’سلطان‘‘ کے کردارسلطان علی خان کے کی ادائیگی کے لیے تیار ہو جائیں گے۔
واضح رہے چند روز قبل اداکار کی طرف سے میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ وہ ’’سلطان‘‘میں اپنے حالیہ سائز سے ڈبل نظر آئیں گے۔49سالہ اداکار ’’سلطان‘‘ میں ہریانہ سے تعلق رکھنے والے معروف پہلوان سلطان علی خان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔سلمان خان نے حالیہ انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ اپنی حال ہی میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلم ’’پریم رتن دھن پایو‘‘ کی پرموشن کے سلسلے میں مصروف رہے جس کے باعث ان کا پہلوانی کا تربیتی کورس بڑی حد تک متاثر ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اب سے10دن بعد ان کے پرستار ان میں جسمانی طور پر واضح فرق محسوس کریں گے۔اس موقع پر اپنی شادی کے متعلق سوال پر سلمان خان کا کہنا تھا کہ وہ جس قدر مسائل میں گھرے ہوئے ہیں کسی لڑکی سے شادی کر کے اسے مصیبت میں نہیں ڈال سکتے اس کے علاوہ میں ایک اچھا شوہر کبھی بھی ثابت نہیں ہو سکتا تاہم بہترین باپ بننے کی صلاحیت رکھتاہوں۔

kapal sharma news

’’کامیڈی نائٹ ود کپل‘‘ کے میزبان کپل شرما کی شراب کے نشے میں خواتین سے چھیڑ چھاڑ

ممبئی: بھارت کے شہرہ آفاق کامیڈی شو’’ کامیڈی نائٹ ود کپل‘‘ کے میزبان کپل شرما شراب کے نشے میں آپے سے باہر ہوگئے اور تقریب میں خواتین ساتھی اداکاراؤں کو بھی ہراساں کیا۔
بھارتی معاشرے میں شدت پسندی کے ساتھ ساتھ  خواتین سے زیادتی اور بد تمیزی کے واقعات عام ہیں یہی نہیں عوام تو عوام  بھارت کی نامور شخصیات بھی خواتین کو ہراساں کرنے میں پیش پیش ہیں جب کہ گزشتہ دنوں بھارتی کرکٹرامیت مشرا اور گلوکار ابھیجیت بھٹا چاریہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے مقدمات بھی درج ہوئے ہیں تاہم اب ایک اور نامور بھارتی کامیڈین نے اپنی خواتین ساتھی اداکاراؤں کو ہراساں کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس  کے مطابق بھارت کے مشہور کامیڈی شو کے میزبان کپل شرما نے مراٹھی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کی اور خاتون ساتھی اداکاراؤں کو ہراساں کیا جب کہ کامیڈین شراب کے نشے میں دھت تقریب میں غل غپاڑہ کرتے رہے تاہم کپل شرما خاتون ساتھی اداکاراؤں کو زردکوب کرنے کے واقعے کی تردید کررہے ہیں۔

IN Paris Attack Real news Of master mind

  1. پیرس حملے کے مشتبہ ماسٹرمائنڈ کی شناخت ہوگئی
پیرس: پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ کی شناخت عبدالحامد ابود کے نام سے ہوئی ہے جوبیلجیم کا رہنے والا ہے جب کہ فرانسیسی صدر فرانسوا الاوند نے پیرس حملوں کے بعد ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی میں3 ماہ کی توسیع کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور کوئی دہشت گرد اگر فرانس میں بھی پیدا ہوا ہو تو اس کی شہریت ختم کر دیں گے۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/11/q412.jpg
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/11/hollande.jpg
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بی بی سی کے مطابق پارلیمنٹ سے خطاب میں انہوں نے کہا ہم دولت اسلامیہ کو تباہ کر دیں گے جبکہ ایمرجنسی کو3 ماہ بڑھانے کیلیے بل پیش کریں گے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ کی شناخت عبدالحامد ابود کے نام سے ہوئی ہے جوبیلجیم کا رہنے والا ہے جب کہ خدشہ ہے کہ وہ اس وقت شام میں موجود ہے۔ مراکشی نژاد بیلجیم کا شہری چرچ حملوں سمیت کئی وارداتوں میں بھی مطلوب اور ابوعمر البکجیکی کے نام سے بھی مشہور ہے۔ حملوں میں ملوث چارخود کش حملہ آوروں میں سے دو کی شناخت صالح عبد السلام اورعمر اسماعیل مصطفائی کے نام سے پہلے ہی کی جا چکی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے باقی دو حملہ آوروں کے نام ظاہر نہیں کئے۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/11/q510.jpg
فرانسیسی وزیرداخلہ برنارڈ کازینیو نے بعض مساجد کو بند کرنے کا عندیہ دیدیا۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا نفرت پھیلانے والے علما کو ملک بدر کرکے ان کی مساجد کو بند کردینا چاہیے۔ حملوں میں مارے جانیوالوں کی یاد میں پیرکو یورپ بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/11/q610.jpg
فرانس میں صدر فرانسوا اولاند کی قیادت میں صبح 11 بجے ایک منٹ خاموشی اختیار کی گئی۔ فرانسیسی وزیراعظم مینوئل والز نے کہا پیرس حملوں کی منصوبہ بندی شام میں کی گئی تھی۔ فرانس بھر میں168 مقامات پر کارروائی کے دوران 104 مشکوک افراد کو گرفتار جبکہ 102افراد کو گھروں میںنظربند کردیاگیا ہے۔ فورسز نے فرانس اور بیلجیم سرحد کے قریب ایک گھر سے دھماکا خیز مواد اور رقم برآمد کرلی۔ پولیس کے مطابق پیرس میں اسکول اور دیگر ثقافتی و تفریحی مراکز پیرکوکھول دیے گئے۔ فرانسیسی حکومت نے دو فرانسیسی خواتین کی جان بچانے پر الجیریا کے مسلمان شہری سفیر کوشہریت دینے کا اعلان کر دیا۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/11/q76.jpg
بیلجیئم کی پولیس کا کہنا ہے حملوں کے الزام میں گرفتار کیے جانیوالے سات میں سے دو افراد پرفردِ جرم عائد کر دی جبکہ باقی پانچ کورہاکردیا گیا۔ امریکی صدر بارک اوباما نے امریکا اور بیرون ملک امریکی سفارتخانوں میں جمعرات کے روزجب کہ امریکی کانگرس کے اسپیکر پال ریان نے کانگرس کی عمارت پر قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا۔ امریکا نے ایف بی آئی کی ٹیم پیرس بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ گورنرمشی گن رک سنائیڈر نے مزید شامی مہاجرین کو پناہ دینے سے انکار کردیا۔ یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس جمعہ کو طلب کر لیا گیا۔ برطانیہ نے سیکیورٹی اداروں کے فنڈز میں اضافہ کر دیا جس سے اہم سیکیورٹی ایجنسیاں مزید1900افسران کی تقرریاں کرسکیں گی۔ چین نے سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/11/q83.jpg
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/11/daesh.jpg
داعش نے وڈیو پیغام میں یورپ میں مزید حملوں کی دھمکی دیدی جبکہ واشنگٹن کو اپنا اہم ہدف قرار دیدیا۔ آئی این پی کے مطابق پیرس حملوں اور داعش کی دھمکیوں کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی۔
http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/11/q92.jpg
امریکی سی آئی اے کے چیف جان برینن نے کہا کہ داعش نے امریکا اور دیگر اتحادی ممالک میں پیرس طرز کے مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے عراق اور شام میں سرگرم تنظیم دولت اسلامیہ کو40 ممالک سے مالی امداد مل رہی ہے جن میں کچھ جی20 گروپ کے رکن ممالک بھی شامل ہیں۔ جی20سربراہ کانفرنس سے خطاب میں روسی انٹیلی جنس اداروںکی رپورٹس پیش کی ہیں۔ مختلف ممالک میں مسلمان باشندوں کی نگرانی سخت کردی گئی۔ کینیڈا کے صوبے اونٹاریوکے شہرپیٹربرو میں نامعلوم افراد نے مسجد کو آگ لگا دی جس سے اس کا80 فیصد حصہ شہید ہوگیا۔
واضح رہے کہ 13 نومبر کو پیرس کے 6 مختلف مقامات پر حملوں کے نتیجے میں 132 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے

Reham khan talaq ke Real news

ریحام خان کا طلاق کے بعد پہلے انٹرویو میں تہلکہ خیز انکشافات



ندن: تحریک انصاف کے چیرمین عمران کی سابق اہلیہ ریحام خان نے طلاق کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خلاف سازش کی گئی اور پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے تو یہاں تک کہا کہ ہم تمھیں روٹیاں بنانے کے لئے یہاں لائے ہیں۔
برطانوی جریدے دی سنڈے ٹائمز کو اپنے انٹرویو میں ریحام خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے شادی سے قبل مجھ سے میرے والدین کے نام پوچھے، وہ شاید اپنے روحانی بابا سے ہماری شادی سے متعلق پوچھنا چاہتے تھے، عمران سے جب دوسری ملاقات ہوئی تو انھوں نے شادی کی پیشکش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی سے قبل تحریک انصاف کا ایک ورکر مجھے ٹیکسٹ کرتا تھا جس کی شکایت بھی کی، اس کے علاوہ ہماری شادی پر عمران خان کی بہنیں بالکل بھی خوش نھیں تھیں لیکن عمران کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
ریحام خان نے کہا کہ عمران خان اور میں بالکل مختلف شخصیت کے مالک نکلے، عمران خان بالکل بھی رومانٹک نہیں ہیں انھوں نے تو مجھے شادی کی چوڑیاں تک نھیں دیں، میں ان  سے ڈرائنگ روم میں انڈین فلموں اور پردوں کی باتیں کرتی لیکن وہ بالکل بھی دلچسپی نھیں لیتے اور ہر وقت سیاست پر بات کرنا پسند کرتے تھے۔ عمران خان کو گھر سے بھی بالکل دلچسپی نھیں تھی، ان کی الماری کھولی تو کپٹرے اس طرح ٹھونسے ہوئے تھے کہ جیسے باہر لٹک رہے ہوں، گھر میں دوسری الماری منگوائی جس پر عمران خان بہت خوش ہوئے، عمران خان کو نئے کپڑے لا کر دیئے اور ان کے گھر میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کی۔ عمران خان کو یہ پرواہ بھی نھیں ہوتی تھی کہ وہ باہر جاتے ہوئے کیسے لگ رہے ہیں جب میرے گھر والے باہر جاتے ہیں تو مجھے ہر وقت ان کی فکر لگی رہتی ہے۔ عمران خان کا فرج کھولا تو وہ بھی خالی تھی، ان کا زیادہ گزارہ دال دلیا پر تھا، ایک لڑکا کچن میں کام کرتا تھا اور وہ بھی ذیادہ وقت ٹی وی ہی دیکھتا رہتا تھا۔
بی بی سی ویدر گرل نے کہا کہ عمران بچوں کو اپنے پاس زیادہ پسند نھیں کرتے تھے اس لئے میں نے اپنے بچوں کو ایک کمرے تک محصور کر لیا تھا، وہ کچن تک بھی نھیں جاتے تھے۔ ہمارے بیڈ روم میں تو ہر وقت کتے گھسے رہتے تھے بلکہ ایک کتے کو تو مجھ سے پیار بھی ہو گیا تھا۔
ریحام خان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف سازش کی گئی، تحریک انصاف کے لوگ میرے ساتھ کام نھیں کرنا چاہتے تھے، ایک سینئر لیڈر نے تو یہاں تک کہا کہ تم کچن میں ہی اچھی لگتی ہو، ہم تمھیں روٹیاں بنانے کے لئے لائے ہیں۔ پشاور میں جب اسٹریٹ چلڈرن کا چیرمین بنایا گیا تو پارٹی لوگوں کو لگا کہ میں پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتی ہوں۔ عمران خان کا کوئی بھی قریبی دوست نھیں ہے اور وہ اکیلے ہی زندگی گزار رہے ہیں، انھوں نے زندگی کے 54 سال اکیلے گزارے ہیں اس لئے کسی کا ان کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے۔
عمران خان کی سابق اہلیہ کا کہنا تھا کہ مجھے غلط طریقے سے طلاق دی گئی، عمران خان نے صرف میسج کے ذریعے کہا ’طلاق، طلاق، طلاق‘ جس پر بہت افسوس ہوا اور پھر عمران نے اپنے ایک دوست کے ذریعے مجھے طلاق کے کاغذات بھیجے جس پر اور بھی زیادہ رنج ہوا۔ ہماری شادی پاکستان یا برطانیہ کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہوئی۔ 10 ماہ تک شادی رہی لیکن مجھے کسی بھی چیز کا حق حاصل نہیں تھا، عمران خان کو پیٹنے، چوہوں کو مارنے والی دوائی پلانے کی کوشش کا الزام لگا۔ اس کے علاوہ پارٹی رہنماؤں سے پیسے لینے کا الزام بھی لگا لیکن کسی نے میرا دفاع نھیں کیا۔

Man real Power

اندر سے کچھ، باہر سے کچھ


    پاکستان میں جہاں مختلف نوعیت کے سنگین جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں رشوت، کمیشن مافیا اور سرکاری محکموں میں فراڈ اور جعلسازی کے عنصر میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رشوت اور کمیشن کی روش نے اب سرکاری محکموں کے سربراہوں، حتیٰ کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھی،اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آئے روز ایسی خبریں منظر عام پر آتی ہیں اور میڈیا کی زینت بنتی ہیں، جنہیں سن کر ہی سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ شرم نہیں آتی تو اُن کو جو سیاست میں ہیں، سیاست بھی کرتے ہیں اور سیاست کے طفیل اعلیٰ حکومتی عہدے حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ قومی خزانے پر اپنا ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے افراد کو ’’قابو‘‘ کرنے کے لیے سخت قوانین تو ضرور موجود ہیں۔ ہتھکڑیوں کا زیور بھی پہنایا جاتا ہے۔ جیل بھی ایسے لوگوں کو جانا پڑتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اُس وقت فضول سا ہو جاتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی صفائی کے ساتھ اپنے آپ کو اِن تمام ’’معاملات‘‘ سے بچا لیتے ہیں۔ سزا تو دُور کی بات، اُن کا بال تک بیکا نہیں ہوتا۔کسی پر بھی انگلی اُٹھا لیں، کچھ بھی کہہ لیں، سوال پھر وہی ہے کہ رشوت، کمیشن اور جعلسازی کے نتیجے میں ناانصافی کا جو نظام قائم و دائم ہے، وہ کب ختم ہو گا؟
    رشوت اور کمیشن سے نا انصافی جنم لیتی ہے اور معاشرے کبھی ناانصافی پر مبنی نظام سے قائم نہیں رہتے۔ ہم گزشتہ 60سال سے اسی ناانصافی پر مبنی نظام کے تابع ہیں۔ امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر، ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے پورے نظام اور معاشرے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ جو اب اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے کب ایسا نظامِ حکومت یا نظامِ جمہوریت لائیں گے جس میں وہ کچھ نہ ہو گا، جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور جو ہمارے مقدر کا لازمی جزو بن گیا ہے۔ اس سے مایوسی پھیل نہیں رہی، پھیل چکی ہے۔ نیب، احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے ملک بھر میں موجود ہیں اور اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اپنے فرائض اور اختیارات میں اُن کا کوئی فعال کردار بھی ہے تو اس کا جواب ہمیشہ نفی میں ہی ہو گا۔ اُن کے نیگیٹو یا غیر فعال کردار کا ہی نتیجہ ہے کہ رشوت اور کمیشن ہمارے تمام سرکاری محکموں اور وزارتوں میں اس قدر عام ہے کہ رشوت یا کمیشن دئیے بغیر کوئی جائز کام بھی نہیں ہو سکتا۔

    سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ہوں یا راجہ پرویز اشرف، ہر ایک پر سنگین الزام لگے ہیں۔ کئی وزیر بھی نہیں بچ سکے۔ یعنی سب کمیشن اور مالی اسکینڈل کے حمام میں ننگے نظر آتے ہیں۔ اُن کے خلاف ایک نہیں کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کے کئی مقدمات ہیں جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، کئی کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں۔
    جب بھی بات ہوتی ہے گیلانی صاحب اور راجہ پرویز اشرف کی، وہ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ اُن کے خلاف تمام کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔ یعنی سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں۔ تمام معاملات اب چونکہ عدالتوں میں ہیں، اس لیے اب عدالتیں ہی خود دیکھ لیں گی کہ ان دونوں صاحبان کے اس الزام یا مؤقف میں کس حد تک صداقت ہے کہ کیا وہ واقعی سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ انہیں کیوں کوئی سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گا۔ وہ موجودہ حکومت کا کیا بگاڑ رہے ہیں، یا بگاڑ سکتے ہیں۔ پھر یہ انتقام کیسا؟

    احتساب عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور وہ ادارے بھی جو اس قسم کے کیسز کی تحقیقات کے لیے مامور ہیں۔ تاہم کسی بھی انویسٹی گیشن کو اُس کے انجام تک پہنچانے کے لیے شہرت یا شواہد کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم ہمارے نزدیک کسی بھی کرپٹ شخص کی کرپشن یا ناجائز ذرائع سے حاصل کی جانے والی دولت کو جانچنے کا ایک مسلّمہ راستہ، اصول یا طریقہ یہی ہے کہ جان لیا جائے اگر وہ شخص واقعی کرپٹ ہے، اُس کی ملکیتی پراپرٹی، طرزِ زندگی اور بینک اکاؤنٹس اس کی آمدن سے زیادہ ہوں گے، اگر اس کے 10یا 20سال پہلے کے ذریعۂ معاش، طرزِ زندگی اور رہن سہن کا جائزہ لے لیا جائے اور اس کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی جائیں تو چنداں مشکل نہیں، تو ہر چیز، کرپشن، مالی بدعنوانی با آسانی سامنے آ سکتی ہے۔ میں ایک اہم شخصیت کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جس کا رہن سہن چند سال پہلے انتہائی عام لوگوں جیسا تھا لیکن جیسے ہی وہ اقتدار میں آئے اور ایک بڑے عہدے پر براجمان ہوئے تو اُن سمیت اُن کے بچوں کا طرزِ زندگی ہی بدل گیا۔ وہ رکشوں سے بڑی گاڑیوں میں آگئے، او ر محلوں جیسا گھر اُن کی اقامت گاہ بنا۔ اثاثے بھی بڑھ گئے اور بینک اکاؤنٹس بھی۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

    پاکستان سے رشوت، کرپشن اور سرکاری محکموں میں سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی رشوت ستانی کے واقعات جب تک ختم نہیں ہو جاتے، ہم تصور ہی نہیں کر سکتے کہ نئے پاکستان کا تصور شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا، معاشرے میں وہ امن و سکون آ سکے گا جس کی خواہش ہم سب رکھتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ دورِ حکومت میں احتساب کے عمل سے نظر آتا ہے کہ شاید حکومت اور احتساب پر مامور ادارے اسے ختم کرنے کی خواہش اور ضرورت محسوس کرتے ہیں لیکن یہ اُس وقت ممکن ہو گا، جب احتساب، بے حساب اور بے دریغ کیا جائے۔ چاہے احتساب کی زد میں کوئی بھی آ جائے۔ احتساب کو ہر لحاظ سے بے رحم ہونا چاہیے۔

    Positive Thinks

    مثبت تحریکیں ضرور ہونی چاہئیں






      ہر ذی شعور کم از کم اتنا تو جانتا ہے فلاحی حکومتیں بھولے سے بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاتیں کہ جن سے قوم کے مفادات کو کسی قسم کا نقصان پہنچے ،لیکن اس کے برعکس اگر حکومت کے اختیارات کبھی مقصود بالذات ہو جائیں تو ایسے حالات میں ظالم سے ظالم حکومت کے خلاف بھی آواز اٹھائی جا سکتی ہے،جبکہ مجبوراً ایسے حالات کو قبول کر لینا قوموں کو تباہ کر دیتا ہے،جن کو دیکھتے ہوئے قوم پرست اور محب وطن کابھی حکومت کے خلاف ہوجانا فطری عمل ہے۔اگر کوئی حکومت اپنی طاقت کے زور پراپنی ہی قوم کو تباہ کرنے کے لئے استعمال شروع کر دے تو اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہر محب وطن شہری کا اولین فرض ہے۔کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے کامیاب تحریک کا ہونا ضروری ہے۔اور عمومی طور پر کامیاب اور حقیقی تحریک کی وجہ حکمران طبقہ کا عوام کے مسائل سے دروغ گوئی بنتا ہے۔ 
      رہا یہ سوال کہ آیا ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ ہماری قوم آواز حق بلند کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہو ؟ تو معاف کیجئے اس کا جواب اصولی نکتہ نوازیوں سے نہیں دیا جا سکتا،اس کا جواب صرف عوامی مشترکہ طاقت میں مضمر ہے اور ایسے مسائل کی آخری کسوٹی کامیابی ہے۔دنیا کی ہر حکومت چاہے وہ کتنی ہی بد ترین ہی کیوں نہ ہو اور اس نے قوم کے اعتماد سے ہزار طرح غداری کیوں نہ کی ہو۔وہ اور اس کے حواری استحصالی قوتیں تو یہی دعویٰ کریں گے کہ حکومت کا اقتدار قائم رکھنا ملک و قوم کے حق میں بہتر ہے۔وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاکھوں ایسے دلائل لے آتے ہیں جوان کے اقدامات کو جائز قرار دینے کے لئے بظاہر کافی نظر آتے ہیں،لیکن یہ سب اقدامات بھی حکومت کی گرتی ساکھ کو نہیں بچا سکتے،بلکہ قوم سے محبت کرنے وا لے جو کسی مصلحت کے تحت خاموش بیٹھے ہوتے ہیں وہ بھی میدان عمل میں کود کر دوسروں کو محو حرکت کر دیتے ہیں۔یوں سب جان جاتے ہیں کہ ایک خاص تحریک کے ذریعہ ہی ہم ایسے راج کے خلاف کامیاب ہو سکتے ہیں اور اپنے لئے آزادی و خود مختاری حاصل کر کے نہصرف مشترکہ دشمن کو شکست دے سکتے ہیں، بلکہ وطن عزیز کو کمال درجہ تک پہنچا سکتے ہیں۔ 

      یہاں خدشہ صرف یہ ہے کہ ان کے مخالف، بلکہ ستم گر اپنی طاقت کو غیر قانونی ذرائع سے استعمال کر سکتے ہیں، لیکن حق پر ڈٹے رہنے والوں جنہیں عموماً باغی کہا جاتا ہے کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حق حاصل ہے۔ (یہاں باغی کا مطلب محترم جاوید ہاشمی نہیں)کیونکہ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ انسان کی زندگی کا اولین مقصد حکومت کا حصول نہیں،بلکہ اپنی قومیت کو قائم رکھنا ہے۔اگر قومیت کو مٹانے کی کوشش کی جائے یا اس پر ظلم ڈھائے جائیں تو ایسے حالات میں قانون کی پابندی محض ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ذرا تصور کریں کہ جو طاقت برسراقتدار ہے وہ تو ممکن ہے کہ محض مزعومہ قانونی وسائل پر اکتفا کر لے ، لیکن جن پر ستم ٹوٹ رہے ہیں وہ ہر ممکن وسیلہ سے کام لیں گے۔ان کا خود حفاظتی کا طبعی احساس انہیں یقین دلا دے گا کہ ان کا طرز عمل بدرجہ اتم جائز ہے۔
      مت بھولیں کہ تاریخ میں غیر ملکی غلامی کا طوق اتارنے یا ملکی ظلم و ستم کے خاتمہ کرنے کے لئے شاندار تحاریک کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ملکی تحریک شروع کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ انسانی حقوق حکومتی حقوق سے بالا تر ہیں۔وہ یہ بھی نہیں بھولتے کہ اگر کوئی قوم اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کرتی ہے اور ناکام رہتی ہے تواس کے معنی یہ ہیں کہ وہ وقسمت کے ترازو میں پورا نہیں اتری،وہ اس عالم خاکی میں زندہ رہنے کے قابل نہیں۔یہ بنیادی فلسفہ کے ساتھ چلنے والی تحریکیں اکثر اوقات کامیاب رہتی ہیں۔

      تحریک کے کرتا دھرتا کی پہلی کامیابی اس وقت شروع ہو جاتی ہے ،جب کمزور دل والے بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں، مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ظلم و ستم ڈھانے والے بھی کمزور دل ہوتے ہیں،فرق صرف اتنا ہے کہ وہ طاقت اور نام نہاد قانون کی آڑ لے کر عارضی تحفظ توحاصل کر لیتے ہیں، لیکن تاریخ میں ان کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔آنکھوں پر عینکیں سجائے گلہ پھاڑ پھاڑ کر اصولی بحثیں کرنے والے قوم کے لئے کبھی جان قربان نہیں کرتے، اور عمل بھی ندارد۔
      تحریکوں کی اصل طاقت غریب ہوتے ہیں۔کھاتے پیتے لوگوں میں جدوجہد کا جذبہ نہایت کمزور ہوتا ہے۔کمزوری کی وجہ ان کے کاروباری مفاد ہوتے ہیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے اپنے ذاتی مفادات سے بڑھ کر سوچنا ہوتا ہے۔موجودہ حالات نے ہمارے ہاں امیر اور غریب کے فرق کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ امراء سمٹ رہے ہیں اور غرباء کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔جو متوقع تحریک کی اصل روح ثابت ہوں گے۔بہرحال بحیثیت مجموعی کہا جا سکتا ہے کہ جب تک کسی ضابطہ حیات کے لئے عوام الناس یہ اعلان نہیں کر دیتے،کہ ہم اس کے علمبردار بنیں گے اور جہاں کہیں اور جس حد تک ضرورت ہو ہم اس کی خاطر مرنے مارنے کو تیار رہیں گے۔تب تک اس ضابطۂ حیات کی کامیابی کی کوئی امید نہیں۔
      تحریک کی کامیابی کے لئے ایک شرط لازمی ہے کہ سپوتوں کی شرکت لازمی ہے ۔کسی نیک مقصد کے لئے دنیاوی پل صراط کو عبور کرنا عام لوگوں کا ہی کام ہے،لیکن ہمارے ہاں کی اکثریت ذہنی طور پر اس مقدس کام کے لئے تیار ہو چکی ہے۔جس کی بڑی وجہ عوام کا پارلیمینٹ سے مایوس ہونا ہے۔عوام کا یہ مغالطہ دور ہو چکا ہے کہ پارلیمینٹ ان کی خاطر کوئی اچھا کام کرے گی۔اب عوام اپنے ان مطلب پرست لیڈروں سے مایوس ہوچکے ہیں جو قومی منبر پر کھڑے دھواں دار تقریریں کر کے ورغلاتے رہے ہیں۔وقت تیزی سے بدل گیا ہے اور بکھری ہوئی قوم متحد بھی ہو رہی ہے اور باشعور بھی۔

      پارلیمینٹ سے باہر عوام کے درمیان کی گئی تقریر زیادہ اثر رکھتی ہے۔خوش کن بات یہ ہے کہ عوامی رابطہ اور تقاریر شروع ہو چکی ہیں۔جن کو عوام کی پذیرائی بھی حاصل ہو رہی ہے۔مزید تسکین کی بات یہ ہے کہ لوگ قائل، بلکہ مائل ہو رہے ہیں۔دنیا بھر میں یہی ہوا ہے کہ ہر تحریک نے ایک نیا ضابطہ حیات دیا ہے۔ہمارے ہاں احتساب کا نعرہ لگ رہا ہے۔اس مرتبہ تحریک کے قائدین لالچ کی بجائے قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں۔صرف تین چیزوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔(1) عام جلسوں میں سنجیدہ افراد کی تعداد ابھی ضرورت سے کم ہے۔(2) مضبوط دلائل کے ساتھ تقاریر کرنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ (3) موجودہ تحاریک کا عوام سے رابطہ ابھی مضبوط نہیں ہوا۔اگر یہ خامیاں بھی دور ہو گئیں تو تحریک طاقت حاصل کر کے اس کو انقلاب میں بدلتے دیر نہیں لگے گی۔اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔آمین۔

      Five risks man trying in life Every time

      وہ 5 خطرات جو ہر کسی کو زندگی میں کم از کم ایک دفعہ ضرور مول لینے چاہئیں



        نیویارک(نیوزڈیسک)انسان خطروں سے دور بھاگتا ہے لیکن کچھ خطرات ایسے بھی ہیں جنہیں زندگی میں ضرور ایک بار مول لینا چاہیے،آئیے آپ کو ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔
        1۔آپ کو چاہیے کہ کسی ایسے انسان کوکم از کم ایک بار ضرورملازم رکھیں جسے عام حالات میں چانس دینا ناممکن ہو۔کیونکہ اگر آپ معیارپر اترنے والے انسان کو نوکری دیں گے تو وہ صرف وہی کام کرے گا جو اس کے ذمہ ہوگا لیکن اگر آپ ایسے انسان کو موقع دیں گے جس کی قابلیت پر وہ پورا نہیں اترتا تو وہ ضرور کچھ ایسا غیر معمولی کرنے کی کوشش کرے گا جس سے آپ یا آپ کی کمپنی کو فائدہ ہوگا۔
        2۔ہر انسان زندگی میں غلطیاں کرتا ہے لیکن بہت ہی کم لوگ ان غلطیوں کو تسلیم کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔لوگوں کی اکثریت حقائق سے نظریں چراتی ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جو غلطیاں انہوں نے کی ہیں ان پر پردہ ہی پڑا رہے۔اگر آپ سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو ہمت پیدا کریں اور اسے مانیں کیونکہ اس سے نہ صرف آپ کے بڑے پن کا مظاہرہ ہوگا بلکہ لوگوں کی نظر میں آپ کا اچھا امیج بنے گا۔
        3۔اگر آپ کو کسی چیز سے خوف ہے تو اس سے نظریں چرانے کی بجائے مردانہ وار اس کامقابلہ کریں۔اگر آپ اپنے خوف پر قابو نہیں پائیں گے تو ساری زندگی اس سے بھاگتے رہیں گے۔بڑے بڑے افراد نے اپنے خوف پر قابو پایا اور ناممکن کو ممکن کردکھایا۔
        4۔آپ کو چاہیے کہ کسی بھی ایک ایسی چیز کا انتخاب کریں جسے کرنے کے لئے دوسرے کتراتے ہوں یا وہ اس سے خوفزدہ ہوں اور اسے کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہوں۔کبھی بھی دوسروں کی باتوں کی وجہ سے اپنی خواہشات کا گلا مت گھوٹیں کیونکہ دنیا کسی کو جینے نہیں دیتی ارو نہ ہی آپ دنیا کو خوش کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔
        5۔آپ کوچاہیے کہ کسی ایک ایسے انسان کی ضرور مدد کریں جسے آپ نہیں جانتے۔دنیا اور آپکے اردگرد لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنہیں مدد کی ضرورت ہے لیکن لوگ انہیں نظر انداز کررہے ہیں یا ان سے خوفزدہ ہیں لیکن کیا آپ میں اس بات کی ہمت موجود ہے کہ اس شخص کی مدد کی جائے؟اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ رسک ضرور لے کر دیکھیں کیونکہ آپ کی یہ ہمت کسی کی زندگی بھی بدل سکتی ہے۔