How-to-Open-a-Padlock-with-a-Coke-Can by dailypakistan
آپ نے کوکا کولا کو پینے کے لئے توکئی بار استعمال کیا ہوگا اور کے کین سے کئی کام کئے ہوں گے لیکن آج ہم آپ کو اس کے کین کے ذریعے تالا کھولنے کا ایسا طریقہ بتائیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔
اگر تالے چھوٹے ہوں اور ان کی چابی کھو جانے کی وجہ سے تو ہم انہیں توڑ سکتے ہیںلیکن اگر بڑے تالے ہوں تو انہیں کھولنا یا توڑنا ممکن نہیں رہتا۔زیر نظر ویڈیو کو دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوکا کولا کے کین سے تالے کو کس طرح کھولا جاسکتا ہے۔کین کو انگریزی کے حرف Mمیں کاٹیں اور درمیان والے حصے کو تھوڑا سا گول رکھیں۔اب دونوں سائیڈز کو اوپر اٹھاتے ہوئے درمیان والے حصے کو وہیں رہنے دیںاور اس حصے کو اس جگہ داخل کرنے کی کوشش کریںجہاں تالا بند کیا جاتا ہے۔تھوڑی سی آگے پیچھے حرکت دینے پر یہ تالا خودبخود کھل جائے گا۔آپ چاہیں تو اس طریقے سے ڈبل لاک والا تالا بھی کھولا جاسکتا ہے اور کین کو کاٹتے ہوئے صرف ہلکی سی تبدیلی کرنے کے بعد آپ یہ تالابھی کھول سکتے ہیں۔اب آپ یہ طریقہ اپنے گھر کے تالے پر آزما کردیکھیں۔
life ke tamam maloomat biography azeem logon ki kesy insaan ameer ho sakta hai tamam rehnmayi business ke tamam gure ise web site per sikhay jaty hain jo ap kerna chaty hain internet ko kesy istamal karin articles apni abitiyan sub kuch songs bi
Tuesday, 17 November 2015
ATOM BOMB TRANSPORTING SYSTEM
’وہ ٹرک جن میں ایٹمی ہتھیار منتقل کئے جاتے ہیں‘
)آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ ایٹمی ہتھیار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردیا گیا ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ خطرناک ہتھیار امریکہ میں کس طریقے سے منتقل کئے جاتے ہیں۔
امریکہ میں جو ٹڑک یہ کام سرانجام دیتے ہیں انہیں Safeguards Transportersکہاجاتا ہے اور یہ ٹرک1975ءیہ کام سرانجام دے رہے ہیں،یہ ٹرک Secure Transportationکے آفس کی جانب سے چلائے جاتے ہیں جوکہ نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کا حصہ ہے۔ان ٹرکوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا اور ان میں ایسا میٹریل استعمال کیا گیاہے کہ ان میں موجود سامان شدید حادثے اور تیز آگ سے محفوظ رہ سکتاہے۔یہ ٹرک قافلوں کی صورت میں اس طرح سفرکرتے ہیں کہ لوگوں کو یہ علم نہ ہوسکے کہ اس میں کیا چیز لے جائی جارہی ہے اور انہیں صرف ایک مخصوص جگہ پر کھالا جاتا ہے اور راستے میں کسی بھی صورت یہ ممکن نہیں کہ ان کے دروازے کھولے جائیں۔اس ٹرک کو چلانے کے لئے انتہائی تجربہ کار اور مضبوط اعصاب کے مالک ڈرائیورز کو رکھا جاتا ہے اور ان کا جاب ٹائیٹل ’نیوکلیئر میٹریل کورئیر ‘کا ہوتا ہے۔
how can make atom bomb /Atom bomb kasy banta ha
ایٹم بم کیسے بنتا ہے؟
جوہری بم دوسری جنگِ عظیم میں دنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے استعمال ہوا۔ انگریزی میں کافی فلموں میں یہ پھٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان میں چند ایک کے نام یہ ہیں۔Dr. Strangelove, The Day After, Testament, Fat Man and Little Boy, The Peacemaker, ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اس قدر مہلک اور لا محدود تباہی کا باعث بننے والا ہتھیار کس طرح کام کرتا ہے؟ اس مضمون میں ہم آپ کو طبعیات کے وہ راز بتائیں گے جن سے یہ اس قدر طاقت ور بن جاتا ہے۔ اسے کیسے ڈیزائن کیا جاتا ہے اور پھٹنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جوہری بم میں چند قوتوں کا عمل دخل ہوتا ہے؟ ان سب سوالوں کا اختصار کے ساتھ ہم جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ ایٹم میں کچھ کمزور قوتیں ہوتی ہیں اور کچھ مضبوط۔ وہ قوتیں جو مرکزے(nucleous) کو مضبوطی سے قائم رکھتی ہیں، مضبوط قوتیں کہلاتی ہیں۔ ان کی وجہ سے مرکزے میں موجود ذرات (نیوٹران اور پروٹان) باہم مضبوطی سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے ایٹم جو ناپائیدار یا تابکار ہوتے ہیں ان میں یہ قوتیں پائیدار یا غیر تابکار ایٹموں کی نسبت کمزور ہوتی ہیں۔
بنیادی طور پر ایٹم سے توانائی دو طریقوں سے خارج ہوتی ہے۔
1: مراکزئی انشقاق(nuclear fission): لفظ انشقاق کا مطلب شق ہونا یا ٹوٹنا ہے۔ قرآن میں سورہ انشقاق بھی موجود ہے۔ اس طریقے میں ایک نیوٹران قابلِ انشقاق ایٹم سے ٹکراتا ہے اور اسے پھاڑ کر دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اس طریقے میں یورینیم-235 یا پلوٹونیم-239 استعمال ہوتا ہے۔
2۔مراکزئی انضمام(nuclear fusion):اس طریقے میں دو چھوٹے ایٹم مل کر ایک بڑا ایٹم بنا دیتے ہیں جس میں بہت زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے۔عموماً ہائیڈروجن کے دو ہم جاء (isotopes) ڈیوٹریم اور ٹریٹیم باہم مدغم ہو کر ایک بڑا مرکزہ ہیلیم بنا دیتے ہیں۔ سورج میں یہی عمل توانائی کی اس قدر کثیر مقدار کے اخراج کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ عملِ انضمام میں عملِ انشقاق کی نسبت زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے۔
ایٹم بم کے لیے بنیادی طور پر آپ کو دو چیزوں کی ضرورت ہو گی
1۔ قابلِ انشقاق (پھٹ جانے ولا )مادہ (fissionable material)۔اسے مادہء متفجّرہ بھی کہتے ہیں۔
2۔گھوڑا triggering device):جیسے بندوق کا گھوڑا۔
ایٹم بم کے بننے اور پھٹنے کے طریقہ کار سے پہلے زیادہ بہتر ہوگا کہ ہم آپ کو ایٹم کی چند خصوصیات بتا دیں۔ دراصل ایٹم ہمارے تصور سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ اتنا چھوٹا کہ اس کا قطر تقریباً 10-8 سم ہوتا ہے۔ اس کے چھوٹے ہونے کا درست تصور قائم کرنے کے لیے ایک فٹ بال کی جسامت کو ذہن میں لائیے۔ایک فٹ بال تقریباً سات سینٹی میٹر قطر کا ہوتا ہے۔ اگر ایٹم فٹ بال کی جسامت جتنا ہو تو اصل فٹ 3044 میل اونچا ہو۔
ایٹم تین بنیادی ذروں سے مل کر بنا ہے۔ مرکزی حصے(مرکزہ) میں نیوٹران اور پروٹان ہوتے ہیں۔ پروٹان پر مثبت چارج اور نیوٹران تعدیلی ہوتا ہے۔ تیسرا ذرہ الیکٹران ہے جو مرکزے کے گرد گھومتا ہے جس پر منفی چارج ہوتا ہے۔ پروٹانوں کی تعداد الیکٹرانوں کے برابر ہوتی ہے۔ اس لیے عام حالت میں ایٹم الیکٹرانوں کے منفی اور پروٹانوں کے مثبت چارج کے برابر اور مخالف ہونے کی وجہ سے تعدیلی ہوتا ہے۔ ایٹموں میں ذرات کی تبدیلی سے ان کی خصوصیات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ کسی ایٹم میں پروٹانوں کی تعداد ایٹمی نمبر (atomic number) کہلاتی ہے اور ایٹم کے مرکزے میں پروٹانوں اور نیوٹرانوں کے مجموعے کو تول نمبر(mass number)کہتے ہیں۔ زمین پر کچھ عناصر عام ہیں جن میں ہائیڈروجن، کاربن، آکسیجن وغیرہ ہیں۔ اب تک سو سے زائد عناصر دریافت ہو چکے ہیں۔ اصل موضوع کو چھیڑنے سے پہلے ایک اصطلاح اور سمجھ لیجئے۔ یہ ہے ہم جاء(isotopes)کی اصطلاح ہے جس کا مطلب ایک ہی جگہ سے نکلنے والے ہے۔ ہم جاء کسی عنصر کے ایسے ایٹم ہوتے ہیں جن کا ایٹمی نمبر (پروٹانوں کی تعداد) برابر ہو مگر تول نمبر(پروٹانوں اور نیوٹرانوں کا مجموعہ)مختلف ہو۔ مثلاً یورینیم کے تین ہم جاء ہیں جو U238 92، U23592 92U233 ہیں۔ تینوں ہیں تو یورینیم ہی مگر ان میں ایٹمی نمبر(یعنی پروٹانوں کی تعداد) تو ایک جیسی ہے مگر تول نمبر(پروٹانوں اور نیوٹرانوں کا مجموعہ) مختلف ہے۔ تینوں ہم جاؤں میں یہ فرق نیوٹرانوں کی تعداد مختلف ہونے کی وجہ سے ہے۔
آئیے اس بنیادی بحث کو یہیں سمیٹتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ اتنے چھوٹے ذرّے سے اتنی توانائی کیسے خارج ہوتی ہے جو اس قدر تباہی و بربادی پر منتج ہوتی ہے۔ اس بات کو ہم مشہور سائنس دان آئن سٹائن کی مساوات کے ذریعے سمجھتے ہیں جو کہ E = mc2 ہے۔ یہاں E (energy) توانائی ہے ۔ m ایٹم کا تول ہے اور c روشنی کی رفتار ہے جو تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر اس مساوات کا مطلب یہ ہے کہ مادہ توانائی میں تبدیل ہو سکتا ہے اور توانائی مادے میں۔ اس کو آسان فہم انداز میں اس طرح سمجھیے کہ مادے کی ایک مناسب سی مقدار کو اگر روشنی کی رفتار سے ضرب دیں تو جواب بہت زیادہ آئے گا جو کہ توانائی کی مقدار کا تعین کرے گا۔ مساوات میں دیکھیں کہ m اور c کا مربع آپس میں ضرب کھا رہے ہیں۔ حالانکہ ایٹم بہت چھوٹا ہوتا ہے مگر جب اس میں موجود مادے کی قلیل سی مقدار روشنی کی رفتار کے مربع سے ضرب کھاتی ہے تو بہت زیادہ توانائی کی مقدار بن جاتی ہے جو خارج ہوتی ہے۔ آپ اس کو یوں سمجھیں کہ بہت ہی چھوٹی چیز جب روشنی کی رفتار سے چلتی ہے تو توانائی میں بدل جاتی ہے۔
ایٹم بم کے لیے عمومی طور پر استعمال ہونے والی دھات یورینیم ہے۔ اس کا ایٹمی وزن کافی زیادہ ہوتا ہے یعنی اس کا ایٹم دوسرے قدرتی طور پر پائے جانے والے ایٹموں سے نسبتاً کافی بڑا ہوتا ہے اور اس کے مرکزے میں ذرات کی تعداد بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے مرکزے میں ذرات کی صورت میں موجود اضافی مادہ ہی اس میں سے توانائی کے اخراج کا سبب بنتا ہے۔اگر آپ 7 کلوگرام یورینیم کو روشنی کی رفتار کے مربع (c2) سے ضرب دیں تو 2.1بلین جول توانائی خارج ہوتی ہے۔ آئیے تھوڑا سا موازنہ کرتے ہیں کہ 60 واٹ کا بلب ایک سیکنڈ میں 60 جول توانائی خرچ کرتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ ایک ڈیڑھ پاؤ بلند درجے کی افزودہ یورینیم سے ایک لاکھ گیلن پٹرول کے برابر توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اتنے گیلن پٹرول ایسے 5 کمروں میں سماتے ہیں جن کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی 50،50 فٹ ہو۔ اس سے آپ کو ایک گیند جتنے یورینیم -235 کے افزودہ مادے میں موجود توانائی کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔
آئیے بات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے چند ضروری عوامل اور اصطلاحات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
تاب کار زوال: تاب کا مطلب روشنی ہے۔ یعنی شعاعیں نکلنے کی وجہ سے تاب کار مادے کی مقدار میں کمی واقع ہونا۔ اس عمل میں تاب کار ایٹم کے مرکزے میں موجود ذرات اتنی تیز رفتاری سے نکلتے ہیں کہ یہ ذرات شعاعوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ تاب کار زوال تین قسم کا ہوتا ہے۔
الفا زوال: تابکار ایٹم کے مرکزے میں سے دو پروٹان اور دو نیوٹران باہم جڑے ہوئے نکلتے ہیں۔ (دو پروٹان اور دو نیوٹران جڑ کر ہیلئم بن جاتے ہیں)۔ با الفاظِ دیگر الفا زوال میں ایٹم کے مرکزے سے ہیلئم کے ذرے نکلتے ہیں۔
بیٹا زوال: بیٹا ذرات الیکٹرانوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور الیکٹران تو مرکزے کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے۔ تو پھر الیکٹران کے اخراج کا کیا معنی؟ دراصل مرکزے کے اندر موجود نیوٹران بذاتِ خود مثبت اور منفی چارجوں کا مجموعہ ہوتا ہے مگر یہ دونوں قسم کے چارج برابر تعداد میں ہوتے ہیں۔یہ چارج الیکٹرانوں اور پازیٹرانوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ یہ دونوں ذرے مقدار میں برابر مگر چارج میں مخالف ہوتے ہیں۔ نیوٹران کے یہ مخالف ساختی اجزاء عام حالت میں ایک دوسرے کے اثر کو زائل کیے رکھتے ہیں جس سے نیوٹران تعدیلی رہتا ہے۔ جب اس میں سے ایک الیکٹران نکلتا ہے تو اس میں ایک اکائی منفی چارج کی کمی آ جاتی ہے اور ایک اکائی مثبت چارج کا اضافہ ہو جاتا ہے جس سےایک نیوٹران ایک پروٹان میں بدل جاتا ہے۔ اس طرح بیٹا زوال میں نیوٹران پروٹان میں بدل کر الیکٹران یعنی بیٹا ذرات خارج کرتا ہے۔ اس عمل کے ساتھ ساتھ پروٹان بھی ایک پازیٹران خارج کر کے نیوٹران میں بدل جاتا ہے۔ پازیٹران پر مشتمل شعاعیں مثبت شعاعیں کہلاتی ہیں۔یہ بھی بیٹا شعاعوں کے ساتھ خارج ہوتی ہیں۔
گیما زوال: گیما زوال میں تابکار ایٹم کے مرکزے سے برقی مقناطیسی شعاعیں بھی خارج ہوتی ہیں جب ایک ایٹم ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے اور ساتھ ہی دو یا تین نیوٹران خارج ہوتے ہیں۔ یہ نیوٹران بھی مرکزے سے تیز رفتار شعاعوں کی صورت میں نکلتے ہیں۔ ان کی تفصیل خاصی لمبی ہے۔ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ یہاں ہم ایٹم بم کے سب سے اہم عمل جوہری انشقاق کے بارے ذرا تفصیل سے بیان کریں گے۔
جوہری انشقاق:ہم یورینیم-235 کو ایٹم بم کے ایندھن اور جوہری بھٹی(nuclear reactor) میں استعمال ہونے والے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ دراصل یورینیم قدرتی طور پر پائے جانے والے عناصر میں سے سب سے بھاری ہوتا ہے۔ اس کے دو ہم جاء(isotopes) ہوتے ہیں۔ ایک یورینیم-235 اور دوسرا یورینیم-238۔ یورینیم-235 میں یہ اضافی خوبی ہے کہ یہ انشقاق کے زنجیری عمل کے لیے یورینیم-238 سے کہیں زیادہ موزوں ہوتا ہے۔ اگر اس کے مرکزے پر ایک نیوٹران آکر ٹکرائے تو یہ اس کو جذب کر لیتا ہے اور خود ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے اور دو یا تین نیوٹران خارج ہوتے ہیں۔ دو نئے بننے والے چھوٹے ایٹم ساتھ ہی گیما شعاعیں خارج کرتے ہیں کیونکہ ان کی نئی حالت وجود میں آئی ہوتی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ ایٹم جب مشتعل/پر جوش یا برانگیختہ حالت حالت سے معتدل حالت میں آتا ہے تو شعاعیں خارج کرتا ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں بڑی دلچسپ ہیں جو قابلِ ذکر ہیں۔ جوہری بم میں ایک ایٹم ٹوٹنے سے جو دو نیوٹران نکلتے ہیں وہ اگلے دو ایٹموں کو توڑتے ہیں اور ساتھ ہی دونوں سے چار نیوٹران نکلتے ہیں۔ یہ چار نیوٹران پھر مزید چار ایٹموں کو توڑتے ہیں تو ان چاروں میں سے آٹھ نیوٹران نکلتے ہیں جو آٹھ ایٹموں کو توڑتے ہیں اور ساتھ ہی سولہ نیوٹران نکلتے ہیں۔آپ نے سکول کے بچوں کے قطار میں کھڑے سائیکل گرتے ہوئے ضرور دیکھے ہو نگے جب ایک سائیکل گرتا ہے تو ساتھ ہی باری باری سب سائیکل گر جاتے ہیں۔ اسی طرح یورینیم کے مادے میں جب ایک نیوٹران گھستا ہے اور ایک ایٹم کو توڑتا ہے تو اس میں سے نکلنے والے نیوٹرانوں سے باقی ایٹموں کی تخریب شروع ہو جاتی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ پورے مادے کے ٹوٹنے کا عمل ایک پیکو سیکنڈ میں مکمل ہو جاتا ہے یعنی 0٫000000000001سیکنڈ میں یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ جوہری بم میں استعمال ہونے والا یورینیم کم از کم 90 فیصد افزودہ ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یورینیم کے مادے میں 90 فیصد ذرات یورینیم-235 کے ہوں اور باقی دس فیصد یورینیم-238 کے۔
فاصل تول/حدِ مقدار(critical mass):انشقاقی مادے کی فاصل مقدار وہ کم سے کم مقدار ہوتی ہے جو عملِ انشقاق برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ایٹم بم میں انشقاقی مادے کو دو یا دو سے زائد ذیلی فاصل مقداروں(sub critical masses)کی صورت میں رکھتے ہیں تاکہ انشقاقی مادہ پھٹ نہ جائے۔ بالکل ایسے ہی جیسے تربوز کی دو پھانکیں کر دی جائیں۔ دونوں مل کر فاصل مقدار سے بڑھ جائیں مگر الگ الگ فاصل مقدار سے کم رہیں۔ ان دو فاصل مقداروں کو جب تیزی سے باہم ملا کر یک جان کیا جاتا ہے تو مادے کی مقدار فاصل مقدار سے بڑھ کر بالائے فاصل(super critical)مقدار بن جاتی ہے اور اگر ساتھ ہی نیوٹران اس مقدار سے ٹکرا جائے تو انشقاقی زنجیری عمل شروع ہو جاتا ہے اور آنِ واحد میں سارا مادہ پھٹ کر ایٹم بم پھٹنے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ ایٹم بم بنانے میں اصل مسئلہ ان دو ذیلی فاصل مقداروں کو قریب لانا اور یک جان بنانا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے دو تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔
1۔بندوقی بھڑکاؤ کا طریقہ:بالائے فاصل مقدار میں نیوٹران جنریٹر کے ذریعے نیوٹران پیدا کر کے داخل کیے جاتے ہیں۔ یہ جنریٹر پلونیم اور بریلیم کی دو سِلوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کے درمیان میں انشقاقی مادے کی ایک چیپی نما تہہ ہوتی ہے۔ جب دو ذیلی فاصل مقداریں(sub-critical masses) قریب لائی جاتی ہیں تو عین اسی وقت پلونیم کی سِل سے الفا ذرات نکلتے ہیں
یہ الفا ذرات پھر بریلیم-9 سے ٹکراتے ہیں جس سے بریلیم-8بنتا ہے اور ساتھ ہی آزاد نیوٹران پیدا ہوتے ہیں۔ یہی نیوٹران عملِ انشقاق(fission reaction) شروع کرتے ہیں۔ آخر کار عملِ انشقاق ایک کثیف قابلِ انشقاق مادے میں محدود ہو جاتا ہے جو کہ عام طور پر یورینیم-238 کا بنا ہوتا ہے۔
2۔بندوقی انشقاقی طریقہ:یہ سادہ سا طریقہ ہے جس میں دو فاصل ذیلی مقداروں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر یک جان بنایا جاتا ہے۔ جس طرح ہم تربوز کو چیک کرنے کے لیے اس میں سے ایک ٹکڑا کاٹتے ہیں(ٹاکی نکالتے ہیں) اور اس ٹکڑے کو دوبارہ اصل تربوز سے جوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح نیوٹران جنریٹر کے گرد یورینیم-235 کا ایک کرّہ بنایا جاتا ہے جس سے ایک ٹاکی نکال لی جاتی ہے۔ یہ ٹاکی یا یورینیم کا ٹکڑا بندوق کی گولی کی طرح کرّے کی طرف فائر کیا جاتا ہے جس سے یہ ٹکڑا تربوز کی ٹاکی کی طرح کرّے کی خالی جگہ کو بھر کر یک جان ہو جاتا ہے اور کرّے کی کل مقدار بالائے فاصل مقدار بن جاتی ہے ۔فائر کے ساتھ ہی نیوٹران جنریٹر چل پڑتا ہے۔ اس طرح سارے مادے میں انشقاقی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یورینیم -235 کی یہ گولی ایک بڑی نال(tube) کے ایک سرے پر ہوتی ہے جبکہ نیوٹران جنریٹر کے گرد بنا ہوا کرہ نال کے دوسرے سرے پر نصب ہوتا ہے۔ یورینیم کی گولی کے پیچھےTNT( ٹرائی نائتروٹائلن) کا بارود ہوتا ہے۔ جونہی بارود کو آگ لگتی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی گیس سے گولی انتہائی سرعت کے ساتھ یورینیم کے کُرّے کی طرف چلتی ہے اور اس میں اپنی جگہ پر گھس کر کُرّے کو یک جان بنا دیتی ہے۔ بیچ میں رکھا ہوا نیوٹران جنریٹر چل پڑتا ہے۔ اس طرح ایٹم بم پھٹ جاتا ہے۔
یہاں پر ایک بات سوچنے کی ہے کہ جب یورینیم کی گولی تیزی سے یورینیم کے کُرّے سے ٹکراتی ہے تو بجائے یک جان ہونے کے ٹکرا کر واپس بھی آ سکتی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مقناطیس کے دو قطب استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک قطب یورینیم کی گولی کے ساتھ ہوتا ہے اور دوسرا مخالف قطب کُرّے کے ساتھ۔ جونہی گولی کُرّے سے ٹکراتی ہے تو دونوں قطب ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں۔ اس طرح دونوں ٹکڑوں کے ٹکرا کر واپس جانے کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ یہ ہے ایٹم بم بننے کا مختصر عمل۔
بنیادی طور پر ایٹم سے توانائی دو طریقوں سے خارج ہوتی ہے۔
1: مراکزئی انشقاق(nuclear fission): لفظ انشقاق کا مطلب شق ہونا یا ٹوٹنا ہے۔ قرآن میں سورہ انشقاق بھی موجود ہے۔ اس طریقے میں ایک نیوٹران قابلِ انشقاق ایٹم سے ٹکراتا ہے اور اسے پھاڑ کر دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اس طریقے میں یورینیم-235 یا پلوٹونیم-239 استعمال ہوتا ہے۔
2۔مراکزئی انضمام(nuclear fusion):اس طریقے میں دو چھوٹے ایٹم مل کر ایک بڑا ایٹم بنا دیتے ہیں جس میں بہت زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے۔عموماً ہائیڈروجن کے دو ہم جاء (isotopes) ڈیوٹریم اور ٹریٹیم باہم مدغم ہو کر ایک بڑا مرکزہ ہیلیم بنا دیتے ہیں۔ سورج میں یہی عمل توانائی کی اس قدر کثیر مقدار کے اخراج کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ عملِ انضمام میں عملِ انشقاق کی نسبت زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے۔
ایٹم بم کے لیے بنیادی طور پر آپ کو دو چیزوں کی ضرورت ہو گی
1۔ قابلِ انشقاق (پھٹ جانے ولا )مادہ (fissionable material)۔اسے مادہء متفجّرہ بھی کہتے ہیں۔
2۔گھوڑا triggering device):جیسے بندوق کا گھوڑا۔
ایٹم بم کے بننے اور پھٹنے کے طریقہ کار سے پہلے زیادہ بہتر ہوگا کہ ہم آپ کو ایٹم کی چند خصوصیات بتا دیں۔ دراصل ایٹم ہمارے تصور سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ اتنا چھوٹا کہ اس کا قطر تقریباً 10-8 سم ہوتا ہے۔ اس کے چھوٹے ہونے کا درست تصور قائم کرنے کے لیے ایک فٹ بال کی جسامت کو ذہن میں لائیے۔ایک فٹ بال تقریباً سات سینٹی میٹر قطر کا ہوتا ہے۔ اگر ایٹم فٹ بال کی جسامت جتنا ہو تو اصل فٹ 3044 میل اونچا ہو۔
ایٹم تین بنیادی ذروں سے مل کر بنا ہے۔ مرکزی حصے(مرکزہ) میں نیوٹران اور پروٹان ہوتے ہیں۔ پروٹان پر مثبت چارج اور نیوٹران تعدیلی ہوتا ہے۔ تیسرا ذرہ الیکٹران ہے جو مرکزے کے گرد گھومتا ہے جس پر منفی چارج ہوتا ہے۔ پروٹانوں کی تعداد الیکٹرانوں کے برابر ہوتی ہے۔ اس لیے عام حالت میں ایٹم الیکٹرانوں کے منفی اور پروٹانوں کے مثبت چارج کے برابر اور مخالف ہونے کی وجہ سے تعدیلی ہوتا ہے۔ ایٹموں میں ذرات کی تبدیلی سے ان کی خصوصیات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ کسی ایٹم میں پروٹانوں کی تعداد ایٹمی نمبر (atomic number) کہلاتی ہے اور ایٹم کے مرکزے میں پروٹانوں اور نیوٹرانوں کے مجموعے کو تول نمبر(mass number)کہتے ہیں۔ زمین پر کچھ عناصر عام ہیں جن میں ہائیڈروجن، کاربن، آکسیجن وغیرہ ہیں۔ اب تک سو سے زائد عناصر دریافت ہو چکے ہیں۔ اصل موضوع کو چھیڑنے سے پہلے ایک اصطلاح اور سمجھ لیجئے۔ یہ ہے ہم جاء(isotopes)کی اصطلاح ہے جس کا مطلب ایک ہی جگہ سے نکلنے والے ہے۔ ہم جاء کسی عنصر کے ایسے ایٹم ہوتے ہیں جن کا ایٹمی نمبر (پروٹانوں کی تعداد) برابر ہو مگر تول نمبر(پروٹانوں اور نیوٹرانوں کا مجموعہ)مختلف ہو۔ مثلاً یورینیم کے تین ہم جاء ہیں جو U238 92، U23592 92U233 ہیں۔ تینوں ہیں تو یورینیم ہی مگر ان میں ایٹمی نمبر(یعنی پروٹانوں کی تعداد) تو ایک جیسی ہے مگر تول نمبر(پروٹانوں اور نیوٹرانوں کا مجموعہ) مختلف ہے۔ تینوں ہم جاؤں میں یہ فرق نیوٹرانوں کی تعداد مختلف ہونے کی وجہ سے ہے۔
آئیے اس بنیادی بحث کو یہیں سمیٹتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ اتنے چھوٹے ذرّے سے اتنی توانائی کیسے خارج ہوتی ہے جو اس قدر تباہی و بربادی پر منتج ہوتی ہے۔ اس بات کو ہم مشہور سائنس دان آئن سٹائن کی مساوات کے ذریعے سمجھتے ہیں جو کہ E = mc2 ہے۔ یہاں E (energy) توانائی ہے ۔ m ایٹم کا تول ہے اور c روشنی کی رفتار ہے جو تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر اس مساوات کا مطلب یہ ہے کہ مادہ توانائی میں تبدیل ہو سکتا ہے اور توانائی مادے میں۔ اس کو آسان فہم انداز میں اس طرح سمجھیے کہ مادے کی ایک مناسب سی مقدار کو اگر روشنی کی رفتار سے ضرب دیں تو جواب بہت زیادہ آئے گا جو کہ توانائی کی مقدار کا تعین کرے گا۔ مساوات میں دیکھیں کہ m اور c کا مربع آپس میں ضرب کھا رہے ہیں۔ حالانکہ ایٹم بہت چھوٹا ہوتا ہے مگر جب اس میں موجود مادے کی قلیل سی مقدار روشنی کی رفتار کے مربع سے ضرب کھاتی ہے تو بہت زیادہ توانائی کی مقدار بن جاتی ہے جو خارج ہوتی ہے۔ آپ اس کو یوں سمجھیں کہ بہت ہی چھوٹی چیز جب روشنی کی رفتار سے چلتی ہے تو توانائی میں بدل جاتی ہے۔
ایٹم بم کے لیے عمومی طور پر استعمال ہونے والی دھات یورینیم ہے۔ اس کا ایٹمی وزن کافی زیادہ ہوتا ہے یعنی اس کا ایٹم دوسرے قدرتی طور پر پائے جانے والے ایٹموں سے نسبتاً کافی بڑا ہوتا ہے اور اس کے مرکزے میں ذرات کی تعداد بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے مرکزے میں ذرات کی صورت میں موجود اضافی مادہ ہی اس میں سے توانائی کے اخراج کا سبب بنتا ہے۔اگر آپ 7 کلوگرام یورینیم کو روشنی کی رفتار کے مربع (c2) سے ضرب دیں تو 2.1بلین جول توانائی خارج ہوتی ہے۔ آئیے تھوڑا سا موازنہ کرتے ہیں کہ 60 واٹ کا بلب ایک سیکنڈ میں 60 جول توانائی خرچ کرتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ ایک ڈیڑھ پاؤ بلند درجے کی افزودہ یورینیم سے ایک لاکھ گیلن پٹرول کے برابر توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اتنے گیلن پٹرول ایسے 5 کمروں میں سماتے ہیں جن کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی 50،50 فٹ ہو۔ اس سے آپ کو ایک گیند جتنے یورینیم -235 کے افزودہ مادے میں موجود توانائی کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔
آئیے بات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے چند ضروری عوامل اور اصطلاحات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
تاب کار زوال: تاب کا مطلب روشنی ہے۔ یعنی شعاعیں نکلنے کی وجہ سے تاب کار مادے کی مقدار میں کمی واقع ہونا۔ اس عمل میں تاب کار ایٹم کے مرکزے میں موجود ذرات اتنی تیز رفتاری سے نکلتے ہیں کہ یہ ذرات شعاعوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ تاب کار زوال تین قسم کا ہوتا ہے۔
الفا زوال: تابکار ایٹم کے مرکزے میں سے دو پروٹان اور دو نیوٹران باہم جڑے ہوئے نکلتے ہیں۔ (دو پروٹان اور دو نیوٹران جڑ کر ہیلئم بن جاتے ہیں)۔ با الفاظِ دیگر الفا زوال میں ایٹم کے مرکزے سے ہیلئم کے ذرے نکلتے ہیں۔
بیٹا زوال: بیٹا ذرات الیکٹرانوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور الیکٹران تو مرکزے کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے۔ تو پھر الیکٹران کے اخراج کا کیا معنی؟ دراصل مرکزے کے اندر موجود نیوٹران بذاتِ خود مثبت اور منفی چارجوں کا مجموعہ ہوتا ہے مگر یہ دونوں قسم کے چارج برابر تعداد میں ہوتے ہیں۔یہ چارج الیکٹرانوں اور پازیٹرانوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ یہ دونوں ذرے مقدار میں برابر مگر چارج میں مخالف ہوتے ہیں۔ نیوٹران کے یہ مخالف ساختی اجزاء عام حالت میں ایک دوسرے کے اثر کو زائل کیے رکھتے ہیں جس سے نیوٹران تعدیلی رہتا ہے۔ جب اس میں سے ایک الیکٹران نکلتا ہے تو اس میں ایک اکائی منفی چارج کی کمی آ جاتی ہے اور ایک اکائی مثبت چارج کا اضافہ ہو جاتا ہے جس سےایک نیوٹران ایک پروٹان میں بدل جاتا ہے۔ اس طرح بیٹا زوال میں نیوٹران پروٹان میں بدل کر الیکٹران یعنی بیٹا ذرات خارج کرتا ہے۔ اس عمل کے ساتھ ساتھ پروٹان بھی ایک پازیٹران خارج کر کے نیوٹران میں بدل جاتا ہے۔ پازیٹران پر مشتمل شعاعیں مثبت شعاعیں کہلاتی ہیں۔یہ بھی بیٹا شعاعوں کے ساتھ خارج ہوتی ہیں۔
گیما زوال: گیما زوال میں تابکار ایٹم کے مرکزے سے برقی مقناطیسی شعاعیں بھی خارج ہوتی ہیں جب ایک ایٹم ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے اور ساتھ ہی دو یا تین نیوٹران خارج ہوتے ہیں۔ یہ نیوٹران بھی مرکزے سے تیز رفتار شعاعوں کی صورت میں نکلتے ہیں۔ ان کی تفصیل خاصی لمبی ہے۔ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ یہاں ہم ایٹم بم کے سب سے اہم عمل جوہری انشقاق کے بارے ذرا تفصیل سے بیان کریں گے۔
جوہری انشقاق:ہم یورینیم-235 کو ایٹم بم کے ایندھن اور جوہری بھٹی(nuclear reactor) میں استعمال ہونے والے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ دراصل یورینیم قدرتی طور پر پائے جانے والے عناصر میں سے سب سے بھاری ہوتا ہے۔ اس کے دو ہم جاء(isotopes) ہوتے ہیں۔ ایک یورینیم-235 اور دوسرا یورینیم-238۔ یورینیم-235 میں یہ اضافی خوبی ہے کہ یہ انشقاق کے زنجیری عمل کے لیے یورینیم-238 سے کہیں زیادہ موزوں ہوتا ہے۔ اگر اس کے مرکزے پر ایک نیوٹران آکر ٹکرائے تو یہ اس کو جذب کر لیتا ہے اور خود ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے اور دو یا تین نیوٹران خارج ہوتے ہیں۔ دو نئے بننے والے چھوٹے ایٹم ساتھ ہی گیما شعاعیں خارج کرتے ہیں کیونکہ ان کی نئی حالت وجود میں آئی ہوتی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ ایٹم جب مشتعل/پر جوش یا برانگیختہ حالت حالت سے معتدل حالت میں آتا ہے تو شعاعیں خارج کرتا ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں بڑی دلچسپ ہیں جو قابلِ ذکر ہیں۔ جوہری بم میں ایک ایٹم ٹوٹنے سے جو دو نیوٹران نکلتے ہیں وہ اگلے دو ایٹموں کو توڑتے ہیں اور ساتھ ہی دونوں سے چار نیوٹران نکلتے ہیں۔ یہ چار نیوٹران پھر مزید چار ایٹموں کو توڑتے ہیں تو ان چاروں میں سے آٹھ نیوٹران نکلتے ہیں جو آٹھ ایٹموں کو توڑتے ہیں اور ساتھ ہی سولہ نیوٹران نکلتے ہیں۔آپ نے سکول کے بچوں کے قطار میں کھڑے سائیکل گرتے ہوئے ضرور دیکھے ہو نگے جب ایک سائیکل گرتا ہے تو ساتھ ہی باری باری سب سائیکل گر جاتے ہیں۔ اسی طرح یورینیم کے مادے میں جب ایک نیوٹران گھستا ہے اور ایک ایٹم کو توڑتا ہے تو اس میں سے نکلنے والے نیوٹرانوں سے باقی ایٹموں کی تخریب شروع ہو جاتی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ پورے مادے کے ٹوٹنے کا عمل ایک پیکو سیکنڈ میں مکمل ہو جاتا ہے یعنی 0٫000000000001سیکنڈ میں یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ جوہری بم میں استعمال ہونے والا یورینیم کم از کم 90 فیصد افزودہ ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یورینیم کے مادے میں 90 فیصد ذرات یورینیم-235 کے ہوں اور باقی دس فیصد یورینیم-238 کے۔
فاصل تول/حدِ مقدار(critical mass):انشقاقی مادے کی فاصل مقدار وہ کم سے کم مقدار ہوتی ہے جو عملِ انشقاق برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ایٹم بم میں انشقاقی مادے کو دو یا دو سے زائد ذیلی فاصل مقداروں(sub critical masses)کی صورت میں رکھتے ہیں تاکہ انشقاقی مادہ پھٹ نہ جائے۔ بالکل ایسے ہی جیسے تربوز کی دو پھانکیں کر دی جائیں۔ دونوں مل کر فاصل مقدار سے بڑھ جائیں مگر الگ الگ فاصل مقدار سے کم رہیں۔ ان دو فاصل مقداروں کو جب تیزی سے باہم ملا کر یک جان کیا جاتا ہے تو مادے کی مقدار فاصل مقدار سے بڑھ کر بالائے فاصل(super critical)مقدار بن جاتی ہے اور اگر ساتھ ہی نیوٹران اس مقدار سے ٹکرا جائے تو انشقاقی زنجیری عمل شروع ہو جاتا ہے اور آنِ واحد میں سارا مادہ پھٹ کر ایٹم بم پھٹنے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ ایٹم بم بنانے میں اصل مسئلہ ان دو ذیلی فاصل مقداروں کو قریب لانا اور یک جان بنانا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے دو تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔
1۔بندوقی بھڑکاؤ کا طریقہ:بالائے فاصل مقدار میں نیوٹران جنریٹر کے ذریعے نیوٹران پیدا کر کے داخل کیے جاتے ہیں۔ یہ جنریٹر پلونیم اور بریلیم کی دو سِلوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کے درمیان میں انشقاقی مادے کی ایک چیپی نما تہہ ہوتی ہے۔ جب دو ذیلی فاصل مقداریں(sub-critical masses) قریب لائی جاتی ہیں تو عین اسی وقت پلونیم کی سِل سے الفا ذرات نکلتے ہیں
یہ الفا ذرات پھر بریلیم-9 سے ٹکراتے ہیں جس سے بریلیم-8بنتا ہے اور ساتھ ہی آزاد نیوٹران پیدا ہوتے ہیں۔ یہی نیوٹران عملِ انشقاق(fission reaction) شروع کرتے ہیں۔ آخر کار عملِ انشقاق ایک کثیف قابلِ انشقاق مادے میں محدود ہو جاتا ہے جو کہ عام طور پر یورینیم-238 کا بنا ہوتا ہے۔
2۔بندوقی انشقاقی طریقہ:یہ سادہ سا طریقہ ہے جس میں دو فاصل ذیلی مقداروں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر یک جان بنایا جاتا ہے۔ جس طرح ہم تربوز کو چیک کرنے کے لیے اس میں سے ایک ٹکڑا کاٹتے ہیں(ٹاکی نکالتے ہیں) اور اس ٹکڑے کو دوبارہ اصل تربوز سے جوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح نیوٹران جنریٹر کے گرد یورینیم-235 کا ایک کرّہ بنایا جاتا ہے جس سے ایک ٹاکی نکال لی جاتی ہے۔ یہ ٹاکی یا یورینیم کا ٹکڑا بندوق کی گولی کی طرح کرّے کی طرف فائر کیا جاتا ہے جس سے یہ ٹکڑا تربوز کی ٹاکی کی طرح کرّے کی خالی جگہ کو بھر کر یک جان ہو جاتا ہے اور کرّے کی کل مقدار بالائے فاصل مقدار بن جاتی ہے ۔فائر کے ساتھ ہی نیوٹران جنریٹر چل پڑتا ہے۔ اس طرح سارے مادے میں انشقاقی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یورینیم -235 کی یہ گولی ایک بڑی نال(tube) کے ایک سرے پر ہوتی ہے جبکہ نیوٹران جنریٹر کے گرد بنا ہوا کرہ نال کے دوسرے سرے پر نصب ہوتا ہے۔ یورینیم کی گولی کے پیچھےTNT( ٹرائی نائتروٹائلن) کا بارود ہوتا ہے۔ جونہی بارود کو آگ لگتی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی گیس سے گولی انتہائی سرعت کے ساتھ یورینیم کے کُرّے کی طرف چلتی ہے اور اس میں اپنی جگہ پر گھس کر کُرّے کو یک جان بنا دیتی ہے۔ بیچ میں رکھا ہوا نیوٹران جنریٹر چل پڑتا ہے۔ اس طرح ایٹم بم پھٹ جاتا ہے۔
یہاں پر ایک بات سوچنے کی ہے کہ جب یورینیم کی گولی تیزی سے یورینیم کے کُرّے سے ٹکراتی ہے تو بجائے یک جان ہونے کے ٹکرا کر واپس بھی آ سکتی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مقناطیس کے دو قطب استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک قطب یورینیم کی گولی کے ساتھ ہوتا ہے اور دوسرا مخالف قطب کُرّے کے ساتھ۔ جونہی گولی کُرّے سے ٹکراتی ہے تو دونوں قطب ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں۔ اس طرح دونوں ٹکڑوں کے ٹکرا کر واپس جانے کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ یہ ہے ایٹم بم بننے کا مختصر عمل۔
Monday, 16 November 2015
Bill gates home important information
بل گیٹس کے گھر سے متعلق چند ناقابلِ یقین حقائق
بل
گیٹس بلاشبہ دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ہیں- فوربس کے مطابق بل گیٹس کے اثاثوں کی مالیت 79.2 بلین ڈالر ہے- ایسی امیر ترین شخصیت کی رہائش گاہ بھی یقیناً پرتعیش ہوگی اور اس میں موجود سہولیات کسی صورت دلچسپی سے خالی نہ ہوں گی- بل گیٹس کی رہائش گاہ کو “ Xanadu 2.0” کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ ایک انتہائی حیرت انگیز گھر ہے- آج کے آرٹیکل میں ہم آپ کو اس گھر سے منسلک چند عجیب و غریب حقائق کے بارے میں بتائیں گے-
|
| بل گیٹس کے گھر کا زیادہ تر حصہ درختوں اور ہریالی سے گھرا ہوا ہے- 1.5 ایکڑ کے رقبے پر پھیلا یہ گھر درختوں کے درمیان ہونے کی وجہ سے انتہائی زبردست معلوم ہوتا ہے- |
| اس گھر میں موجود گیسٹ ہاؤس 1900 اسکوائر فٹ کے رقبے پر ہے اور یہ اس پراپرٹی کی سب سے پہلی مکمل ہونے والی عمارت بھی ہے جو 1992 میں مکمل ہوئی- |
| اس گھر میں ورزش کے حوالے سے ہر قسم کی جدید سہولت موجود ہے- بل گیٹس کے اس پرتعیش گھر میں آپ کو جم٬ کئی سوئمنگ پول٬ سٹیم روم کے علاوہ زیرِ زمین میوزک سسٹم بھی نصب ہے- |
| اس پرتعیش گھر میں تقریباً 24 باتھ روم ہیں جبکہ 6 باورچی خانے بھی تعمیر کیے گئے ہیں- یہ باورچی خانے گھر کے مختلف حصوں میں تعمیر ہیں- |
| بل گیٹس نے یہ گھر 1988 میں 2 ملین ڈالر میں خریدا تھا جس کی 7 سال بعد ہی مالیت 63 ملین ڈالر ہوچکی تھی- تاہم سال 2012 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ گھر اس وقت 123.54 ملین ڈالر کی قیمت کو پہنچ چکا تھا- |
| بل گیٹس وہ امیر ترین شخصیت ہیں جنہوں نے گھر میں چمگاڈروں کے غار کے طرز پر ایک غار بھی تعمیر کر رکھی ہے- اس غار میں 3 گیراج بھی ہیں جن میں 23 گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں- اس کے علاوہ اس غار میں زیرِ زمین ایک خفیہ اسٹرکچر بھی موجود ہے جس میں باآسانی 10 گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ موجود ہے- |
| یہ گھر آب و ہوا کو کنٹرول کرنے والے جدید سسٹم سے آراستہ ہے- گھر میں آنے والے ہر مہمان کو ایک مائیکرو چپ دی جاتی ہے جس کی مدد سے وہ موسمیاتی ماحول کو کنٹرول کر سکتا ہے- |
| بل گیٹس کو خفیہ ٹیکنالوجی بہت پسند ہے اور اسی وجہ سے اس گھر کے کمروں کی دیواریں خفیہ اسپیکروں سے آراستہ ہیں- ان اسپیکر سے ہلکی ہلکی گانوں کی آواز آتی رہتی ہے جنہیں مہمان اپنی مرضی کے مطابق تبدیل بھی کرسکتا ہے- |
| اس گھر کی سب سے خاص بات یہاں کی لائبریری ہے- 2100 اسکوائر فٹ کے رقبے پر پھیلی اس لائبریری میں متعدد قدیم کتابیں موجود ہیں- |
shahid khan Pakistani Richest Person ki real life story kasy shahid khan ameer admi bana
شاہد خان٬ امیر ترین شخصیت کے عیاں راز
سرزمینِ پاکستان نے کئی قابلِ فخر اور ذہین سپوتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی کامیابی کے جھنڈے دنیا بھر میں گاڑے ہیں- مختلف پاکستانیوں کی یہ کامیابیاں کھیلوں کے میدان سے لے کر کاروباری دنیا تھی پھیلی ہوئی ہیں- تاہم بعض کامیاب پاکستانی شخصیات ایسی بھی ہیں جنہوں نے اپنی منزل کے حصول کے لیے اپنے بدترین مالی حالات سے ایک جنگ سی لڑی ہے- ایسی ہی شخصیات میں ایک نام امیر ترین کاروباری شخصیت پاکستانی نژاد شاہد خان کا بھی ہے-
دنیا کی 500 امیر ترین شخصیات میں شامل شاہد خان کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے اور امریکہ میں مقیم ہیں- ان کے اثاثوں کی مالیت 4.4 بلین ڈالر ہے- شاہد خان کی والدہ پروفیسر تھی اور یہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اس خاندان کا گزر بسر ایک چھوٹے سے تعمیرات کے کاروبار کے ذریعے ہوتا تھا- اس آرٹیکل میں ہم شاہد خان سے متعلق چند ایسی سچائیاں پیش کرنے جارہے ہیں جو کسی سے پوشیدہ تو نہیں لیکن پھر بھی پاکستانی قوم کی ایک بڑی اکثریت ان سے ناواقف ہے- |
شاہد خان اس وقت صرف 16 برس کے تھے جب وہ اپنے آرکیٹیکٹ بننے کی خواب کی تکمیل کے لیے امریکہ گئے- امریکہ میں انہوں نے University of Illinois داخلہ لیا- اس وقت انہیں اپنے کمرے کا کرایہ فی رات 2 ڈالر ادا کرنا پڑتا تھا٬ لہٰذا بحیثیتِ طالبعلم اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے ملازمت اختیار کی- ان کی پہلی نوکری برتن دھونے کی تھی اس کے لیے انہیں فی گھنٹہ 1.2 ڈالر ادا کیے جاتے تھے- اپنے پہلے سیمسٹر کے اختتام پر شاہد خان نے اپنے آرکٹیکٹ بننے کے خواب کو یہ کہہ کر خیرباد کہہ دیا کہ “ آرکٹیکٹ زیادہ پیسے نہیں بناتے“ اور ساتھ ہی انڈسٹریل انجنئیرنگ میں ڈگری حاصل کرنے کو فوقیت دی- |
1978 میں شاہد خان نے اپنی جمع کی ہوئی رقم 16 ہزار ڈالر اور قرضے کی رقم 50 ہزار ڈالر کے ساتھ ایک چھوٹی سی کمپنی قائم کی جو کہ ٹرکوں کے ایسے بمپر تیار کرتی تھی جو وزن میں ہلکے ہوتے تھے- دو سال کے قلیل عرصے میں شاہد خان نے Flex –N-Gate نامی وہ کمپنی خرید لی جس نے انہیں ابتدائی دنوں میں ملازمت دی تھی- 1987 شاہد خان Flex –N-Gate گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی ٹویوٹا کو بمپر مہیا کرنے والی واحد کمپنی بن گئی اور مزید دو سال کے بعد یہ پورے امریکہ میں ٹویوٹا کمپنی کو بمپر سپلائی کرنے کا اعزاز حاصل کرلیا- |
شاہد خان وہ پہلے ایشیائی باشندے ہیں جنہوں نے 2011 میں نیشنل فٹبال لیگ ٹیم خریدی- شاہد خان Jacksonville Jaguar نامی امریکی فٹبال فرنچائز 760 ملین ڈالر میں حاصل کی- اس کے علاوہ شاہد خان ایک انگلش فٹبال کلب کے بھی مالک ہیں جسے “Fulham Football Club” کے نام سے جانا جاتا ہے- |
اس امیر ترین پاکستانی شخصیت کی رہائش گاہ بھی عالیشان ہے- شاہد خان کا گھر شکاگو کے پارک ٹاور میں 61ویں فلور پر واقع ہے- یہ عمارت شکاگو کی سب سے بلند ترین عمارات میں سے ایک ہے- 9 ہزار اسکوائر فٹ کے رقبے پر پھیلے اس گھر کی قیمت 8.3 ملین ڈالر ہے- اس گھر میں اپنی بیگم آن اور دو بچوں ٹونی خان اور شاہانہ خان کے ساتھ رہتے ہیں- شاہد خان اپنی فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں- ان کے فلاحی ادارے Jaguars Foundation 2012 میں بچوں اور غریب خاندانوں کے لیے خصوصی فنڈ بھی فراہم کیے تھے جو 10 لاکھ ڈالر سے زائد رقم تھی- اس کے علاوہ اس فاؤنڈیشن نے 11 ہزار چیریٹی کے ٹکٹ بھی خیرات کیے جن کی مالیت 5 لاکھ ڈالر بنتی ہے- |
فوربس کے مطابق شاہد خان امریکہ کی 400 امیر ترین شخصیات میں 179 نمبر پر ہیں جبکہ دنیا کی امیر ترین شخصیات میں ان کو 491 پوزیشن حاصل ہے- شاہد خان ایک پرتعیش گھر کے علاوہ ایک امیرانہ چھوٹے بحری جہاز کے بھی مالک ہے- یہ بحری جہاز 6 بیڈ روم٬ سوئمنگ پول٬ جکوزی جیسی سہولیات سے آراستہ ہے- اس کے علاوہ اس بحری جہاز میں باربی کیو جیسی پارٹیوں کے لیے بھی جگہ مختص ہے- بحری جہاز پر سلور جیگوار گاڑی بھی موجود ہے- |
شاہد خان کی مونچھیں بھی بہت مقبول ہیں- یہ مونچھیں نہ صرف ان کی فٹبال ٹیم کے لیے بلکہ ان کے رہائشی قصبے Jacksonville میں بھی فخر کی علامت سمجھی جاتی ہیں- |
Bollywood ki big news click karin
پریانکا چوپڑا امریکی شہری کو دل دے بیٹھیں
بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا اپنے کردار میں ڈھل جانے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں اور متعدد بلاک بسٹر فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں یہی نہیں اداکارہ نے ہالی ووڈ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے جب کہ اداکارہ کے فلمی کیرئیر میں کئی معاشقے بھی خبروں کی زینت بنے جس میں اداکار اکشے کمار، شاہد کپور اور ماڈل اسیم مرچنٹ شامل ہیں تاہم اب پریانکا چوپڑا امریکی شہر لاس اینجلنس میں امریکی شہری کے ساتھ کئی بار دیکھی گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ پریانکا چوپڑا امریکی شہری کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہیں، اداکارہ کو امریکا کے شہر لاس اینجلس میں اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود امریکی شہری کے ساتھ وقت گزارتے دیکھا گیا جب کہ بالی ووڈ کی جنگلی بلی نے امریکی شہری سے شادی کا فیصلہ بھی کرلیا ہے جس کا جلد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا امریکا میں اپنے پروگرام کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)










